25 April 2026

کشمیر۔۔۔کشمیری لوگ

‏کشمیر۔کشمیری لوگ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
جیسے کشمیر کو اللہ نے ایک خوبصورت زمین کا ٹکڑا بنایا ہے۔
اسی طرح کشمیری لوگوں کے دل اور باغیرت قوم کے طور پر کشمیری اپنا نام اور مقام رکھتے ہیں۔

اور میں کشمیری بھائیوں سے یہ درخواست کروں گا کہ اپ بھی پاکستان کے ساتھ اسی طرح کھڑے ہوں جس طرح کے ایک بھائی کو ایک بھائی کے ساتھ کھڑے ہونے کا پورا پورا حق اور دونوں کے اوپر ایک فرض ہوتا ہے۔

اج سہیل افریدی اپ لوگوں کے پاس ایا ہوا ہے تو اس کی باتیں سنیں عزت دیں اور اس سے سوال کریں جو سوال بنتا ہے۔
خالی باتیں بہت ہو گئی کام کا ٹائم ہے کام کی بات کرو بھیاں؟
عمران خان کے ساتھ ملاقات کب کر رہے ہو؟
عمران خان کی رہائی کے لیے اب تک کیا پروگریس ہے؟
کیا تم سمجھتے ہو کہ عمران خان کو رہاکرا پاؤ گے؟

میاں عرفان احمد صدیقی

‎#Pakistán
‎#PTIFoundationDay
‎#MuzaffarabadJalsa

غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔۔کرپٹ چور اچکوں کی بادشاہت۔۔نام پاکستان

غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔۔
کرپٹ چور اچکوں کی بادشاہت۔۔
نام پاکستان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پاکستان یہ ایسا عجیب و غریب ملک ہے جس کے رہنے والے لوگ بھی عجیب و غریب مائنڈ سیٹ کے مالک ہیں۔

پوری دنیا میں اگر کوئی حکومت پروجیکٹ لگانے یا اس کی فراہمی میں ناکام یا بروقت تعاون نہ کرے تو وہاں کے شہری اپنے بل بوتے پر اس کا حل کرتے ہیں تاکہ وہ سہولت کو بروہ کار لاتے ہوئے اپنی پریشانیوں میں کمی کر سکیں۔

لیکن یہ ایسے چور اچکے لفنگے لوگ ہیں خود کام کریں تے نہیں اور اگر لوگ کام کریں تو ان کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

سولر پینل کو ہی لے لیجئے پوری دنیا میں سولر پینل لگانے والے لوگوں کو سہولتیں دی جاتی ہیں اور ان سے بجلی خریدی جاتی ہے تاکہ ملک کے اندر جو بجلی کی کمی بیشی کے نظام کو پراپر کیا جائے۔

یہ پاکستان عجیب و غریب لوگوں کا ملک ہے جہاں لوگ اپنے پیسوں سے سولر پینل امپورٹ کرتے ہیں پھر خریدتے ہیں ساری تکلیفیں اٹھا کر اس کی سیٹنگ کرنے کے بعد اللہ کے دیے سورج سے بجلی بنتی ہے اور اوپر سے ان حکومت سے پرمیشن بھی لینی ہے اور ان کو ٹیکس بھی دینا ہے۔۔

یہ انسان نہیں انسانی لبادے کے اندر جانور اور ج*** لوگ مسلط ہیں۔

عجیب و غریب ملک عجیب و غریب حکومت اور عجیب و غریب اس میں بسنے والا ہے۔

اللہ ہی ہے جو ان عقل کے اندھوں کو عقل دے دے۔

میاں عرفان احمد صدیقی

#foryou #followers #islam #MuslimUnity #Pakistán  ​ 

23 April 2026

نیوز کے اندر دیکھا کہ اسرائیل کے ایک فوجی نے سلیب جو کہ عیسائیوں کا نشان .....

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جیسا کہ اپ نے نیوز کے اندر دیکھا کہ اسرائیل کے ایک فوجی نے سلیب جو کہ عیسائیوں کا نشان ہے جس کو وہ یہ مانتے ہیں کہ اس صلیب کے اوپر حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی پہ لٹکایا گیا۔
جب کہ مسلمانوں کے ہاں یہ بلیو ہے کہ عیسی علیہ السلام کو زندہ اسمان کی طرف  اٹھا لیا گیا۔
لیکن بات یہ ہے کہ دونوں مذہب کے اندر عیسی علیہ السلام کی اتنی ہی قدر ہے جتنی ایک پیغمبر کی انسانیت کرتی ہے۔

تو ایک اسرائیلی فوجی نے ایک مجسمے سلیب کے اوپر جو تھا اس کو اتارا الٹا کیا اور اس کی بے حرمتی کی حالانکہ یہ مسلمانوں کے ہاں ایسا کوئی کنسپٹ نہیں ہے لیکن جھوٹا ہے یا سچا ایک سائن ہے جس کو عیسائیت مانتی ہے تو کیا یہ عیسائیت کے مذہب کے بلیو کرنے والے لوگ ان کو یہ گوارا ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی اٹھ کر اس طرح کی حرکت کریں یہ سیم ایسا ہی ہے جیسا کہ مسلمان نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جس طریقے سے ایمان رکھتے ہیں اور ایک کوئی بھی شخص اٹھ کر کوئی ایسا مجسمہ تصویر ان سے منسوب کرے اور پھر اس کی تذلیل کرے تو جیسے ایک مسلمان کو برداشت نہیں تو اسی طرح کسی بھی مذہب کے پیشوا کی یا اس مذہب کے پیغمبر کی یا اس مذہب کے رہنما کی کوئی تصویر یا سائن یا ان سے منسوب کر کے ایک چیز کو ذلیل کیا جائے اس کی تزہیق کی جائے تو یہ اس مذہب کے پیشوا کو گوارا نہیں تو میں اس سلسلے میں اس فوجی کے اس کردار کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور اپنی تمام مسلم کمیونٹی کو یہ بولتا ہوں کہ اپ سب لوگ اس کے اوپر اواز اٹھائیں اور اپنا ری ایکشن دیں کسی بھی مذہب کے بلیور کو یہ کوئی حق نہیں پہنچا کہ وہ دوسرے کے مذہب کے اوپر انگلی اٹھائے یا اس طرح کی اواز کشی یا حرکت کرے جس سے اس کے ماننے والوں کے دل کو دکھ پہنچے۔اور میری درخواست سب کریچن سے بھی ہے کہ اپ لوگ کیونکہ خاموشی یا کہیں اگر اپ مذمت کر رہے ہو آپکی اواز اتنی کم سنائی دے رہی ہے کہ جس سے یہ حیرانگی ہوتی ہے کہ اپ لوگ کیسے خاموش رہ سکتے ہو۔

اور اس کے اوپر اور اس جیسے کسی بھی ایکشن کے اوپر ہر انسان کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنی اواز کو بلند کرے اور یہ بتائے اس دنیا کو کہ ہم انسان ہیں اور انسان کے معاشرے میں انسان انسانیت کی عزت کر کے ہی رہ سکتا ہے اگر کوئی یہ سمجھے کہ کوئی ایک شخص دوسرے شخص کی تضہیق کر کے یا اس کو تکلیف دے کے سکون سے رہے تو یہ ناممکن ہے ایسا نہیں ہوتا تکلیف کے بدلے تکلیف اتی ہے اج ا جائے یا کل، یہاں ائے یا اگلے جہان میں اسکو بھگتنا ضروری ہے اسی لیے قیامت کا انا بھی ضروری ہے اور اسی لیے اسلام کے اندر دور اخرت اخری دن کا کونسپٹ ہے وہ بھی اسی لیے ہے۔

اللہ کرے میری یہ بات اپ سب کو سمجھ ا جائے اور اپ سب سے یہ درخواست ہے کہ اپ ہر اس عناصر کی جو عناصر انسانیت کے  مل بیٹھنے اور امن میں رکاوٹ بنتے ہیں ان کی بھرپور طریقے سے مخالفت کریں۔
شکریہ
میاں عرفان احمد صدیقی۔

Israeli soldier disrespected a cross, which is a sacred symbol in Christianity.

Israeli soldier disrespected a cross, which is a sacred symbol in Christianity.

Peace be upon you, and the mercy and blessings of Allah.

As you may have seen in the news, there are reports that an Israeli soldier disrespected a cross, which is a sacred symbol in Christianity.
 Christians believe that Prophet Jesus (peace be upon him) was crucified on the cross, while in Islam it is believed that Jesus (peace be upon him) was raised alive.

However, the important point is that both religions hold Jesus (peace be upon him) in high regard as a respected prophet.

Despite this, the reported act of a soldier flipping and desecrating a cross is highly inappropriate. Even though such a concept does not exist in Islam, if something is considered sacred by another religion, it deserves respect—whether one personally believes in it or not.

This is similar to how Muslims deeply love and respect Prophet Muhammad (peace be upon him).
 If someone were to associate an image or symbol with him and then insult or desecrate it, it would be unacceptable to Muslims. 
In the same way, insulting the symbols, leaders, or prophets of any religion deeply hurts the followers of that faith.

I strongly condemn the actions of this soldier and call upon the Muslim community to raise their voices against such behavior. 
No believer of any religion has the right to insult another’s faith or engage in actions that hurt the feelings of others.

I also appeal to the Christian community: if there is silence, or if your voices are not being heard clearly, it is concerning. 
In such matters, it is important for all people to speak up.
In response to such actions, every human being has the right to raise their voice. 
We can only live peacefully in society if we respect one another’s humanity. Anyone who believes they can insult others and live peacefully is mistaken. 
Harm brings harm in return—whether today or tomorrow, in this world or the next.

That is why the concept of accountability and the Day of Judgment holds such importance in Islam.

I pray that my message reaches you all clearly. 
I request everyone to stand firmly against anything that disrupts peace, unity, and mutual respect among humanity.

Thank you.
Mian Irfan Ahmed Siddiqui.

#MBCNews #christianity #Christians #islam #MuslimUnity #ChristianEducation #기독교 #한국기독교

21 April 2026

پاکستان کے حالات اور اس کا حل میری نظر میں۔۔۔۔

‏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
احسن بھائی کی سپیس کے اندر اج ڈسکشن ہوئی اچھا لگا۔
بہت سارے کویسچنز تھے بہت ساری باتیں تھی لیکن شارٹ ٹائم میں بڑی تعداد میں بولنے اور سننے والوں کے اندر یہ ساری چیزیں ناممکن ہیں۔

میرے بہت سارے کویسچن جبران الیاس بھائی سے تھے میں نے سمجھا کہ ٹویٹ کے ذریعے ہی پوچھ لینا زیادہ مناسب ہوگا۔

1. جبران بھائی اپ نے بولا کہ کہ سوشل میڈیا کے پاس اتنی اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ کسی کو کچھ کرنے پر دباؤ دے سکے یا ذمہ داری لگا سکیں ایگری۔

لیکن بھائی جان سوشل میڈیا کے پاس یہ پوری اتھارٹی ہے کہ وہ پوائنٹ اؤٹ کر سکے سوشل میڈیا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کو سیم اسی طرح دکھائے جیسے وہ ہے تاکہ جو دیکھنے سننے پڑھنے والے ہیں وہ اس حقیقت کو ایک ڈائریکشن ایک بیانیہ ایک نیریٹو کو پرموٹ اور ایک سمت میں لے کر چلیں یہ چھوٹا کام نہیں ہے۔
یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اگر اس کو سمجھ آ جائے۔

2. جبران بھائی اپ نے بولا کہ ایک عمران خان کا ٹویٹ وہ بھی ری ٹویٹ نہیں ہوتا لوگ اس کو بھی ری ٹویٹ نہیں کرتے۔
افسوس کی بات ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کا ٹویٹ ہو یا کسی بھی پاکستانی کا ٹویٹ ہو وہ بات پاکستان کی کرے انصاف کی کرے حق کی کرے مسلمانیت کی کرے انسانیت کی کرے دیکھنے والے اور پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ بلا امتیاز بغیر کسی سوچے سمجھے کہ اگلا بندہ کون ہے اس پہ توجہ دیے بغیر وہ صرف یہ دیکھے کہ وہ جو بات ہوئی ہے وہ ٹھیک ہے اگر تو وہ ٹھیک ہے تو اس کو بھی چاہیے کہ وہ اس کی حمایت کرے اگر کوئی غلط بات کرے تو اس کی بھی پوری پوری مذمت کرے یہ خالی پاکستانی ہونے والوں پر فرض نہیں ہیں یہ ہر اس انسان کا فرض ہے کہ وہ اس کام کو فریضہ سمجھ کر قوم کی امانت سمجھ کر کرے کیوں کہ ماحول کو بنانے کے لیے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور انسان اپس میں مل کر ایک ماحول ایک معاشرہ بناتے ہیں ایک ایک انسان  اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اللہ نے اس کو دی ہے اور انسانوں سے ہی معاشرے بنتے ہیں۔

اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر معاشرے کے اندر جتنی بھی برائیاں ہوتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہاں کے رہنے والے لوگوں کی وہ برائیاں ہیں جو معاشرے کے اندر ریفلیکٹ کر رہی ہیں اگر پاکستان کے اج حالات اتنے برے نظر ارہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انفرادی طور پر کہیں نہ کہیں ان بیماریوں کے اندر مبتلا ہیں۔

یقینا کہیں نہ ہم کو وہ پکچر نظر نہیں ارہی یا نہیں دکھائی جا رہی۔ یا پھر ہمیں دیکھنے کی وہ شعور کی انکھ جسے وہ چیزیں نظر اتی ہے وہ بیدار نہیں ہوئی۔
اس لیے ہمیں حقیقت سے زیادہ جھوٹی اور غلط افواہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تو پھر اس کا حل کیا ہے اس کا حل یہی ہے کہ میں اپ اور ہم سب مل کر اچھائی اور اچھا بنے اور اس کو پروموٹ کریں اس پر عمل کریں ایک ایک کر کے تھوڑا تھوڑا کر کے ہم بہت تھوڑے عرصے میں بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن سب سے  ضروری چیز ہے کرنا اگر کام نہیں ہوگا تو رزلٹ بھی نہیں ائے گا کیونکہ کام سے ہی تبدیلیاں اتی ہیں کام کرنے سے ہی غلط اور صحیح ہوتا ہے نیت ٹھیک ہو تو غلط کام کو اپ دوبارہ صحیح کر سکتے ہو لیکن کام کرنے سے پہلے ہی اگر اپ کی نیت کے اندر فتور ہوگا تو اپ کا کوئی کام بھی صحیح نہیں ہوگا کیوں کہ اپ کی نیت غلط ہے تو رزلٹ یقینا غلط ہی ائے گا۔

اج اگر پی ٹی ائی اپنے مقصد میں ناکام ہے تو اس میں ان کی نیت اور ان کی وہ کارکردگی ہے جو ان کو کرنی چاہیے تھی وہ نہیں کر رہے اس لیے اس کا رزلٹ بھی نہیں ہے۔

پاکستان کے اندر بھی جتنی برائیاں جتنے مسائل ہیں وہ سب پاکستانیوں کے اندر موجود ہیں اور کرپٹ و غلط لوگ وہ صرف اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کہ جب شریف لوگ اپنا منہ بند کر لیتے ہیں اور اپنی اواز اٹھانا چھوڑ دیتے ہیں جب اپ غلط کو غلط بولو گے صحیح کو صحیح بولو گے تو یہی اسلام کی تعلیمات میں سے ہے کیونکہ اسلام کے اندر یہ کھلا لکھا ہوا ہے کہ اپ برائی کو ہاتھ سے روکو اگر طاقت نہیں تو پھر اپنی زبان سے روکو دل میں برا جاننا تو یہ ان لوگوں کا کام ہے جو چلنے پھرنے بولنے سے ناکام ہو چکے ہیں یا ضعیف ہو چکے ہیں۔

امید ہے کہ میری بات اپ کو کہیں نہ کہیں اثر کرے گی انشاء اللہ کیونکہ یہ میری بات نہیں میں نے بزرگوں کی کی ہوئی بات کو صرف اپ کے سامنے پیش کیا ہے۔

اللہ ہم سب کو سچا اور پکا مسلمان اور انسان بنائے۔
امین ثم امین
میاں عرفان احمد صدیقی

‎#islam
‎#Pakistan
‎#PTIofficial
‎#PTISocialMedia
‎#gbtrade

뉴스에서 보신 것처럼, 이스라엘 군인 한 명이 기독교의 상징인 십자가를 훼손했다는 이야기가 있습니다.

안녕하십니까, 
하나님의 자비와 축복이 함께하시길 바랍니다.

뉴스에서 보신 것처럼, 이스라엘 군인 한 명이 기독교의 상징인 십자가를 훼손했다는 이야기가 있습니다. 기독교에서는 예수님이 십자가에 못 박히셨다고 믿고 있습니다. 반면 이슬람에서는 예수님(이사 알라이히쌀람)이 살아서 하늘로 올려졌다고 믿습니다.

하지만 중요한 점은, 두 종교 모두 예수님을 한 위대한 예언자로서 존중하고 있다는 것입니다.

그럼에도 불구하고, 한 이스라엘 군인이 십자가 위에 있는 상징물을 뒤집고 모욕하는 행동을 했다는 것은 매우 부적절한 일입니다. 이슬람에서는 그러한 개념이 없지만, 그것이 사실이든 아니든 기독교에서 신성하게 여기는 상징이라면 반드시 존중받아야 합니다.

이는 마치 무슬림이 예언자 무함마드(평화가 그에게 있기를)를 얼마나 깊이 믿고 존중하는지와 같습니다. 만약 누군가 그와 관련된 상징이나 이미지를 만들어 그것을 모욕한다면, 무슬림은 결코 그것을 받아들일 수 없습니다. 마찬가지로 어떤 종교든지 그들의 예언자나 상징, 지도자에 대한 모욕은 그 신자들에게 큰 상처를 줍니다.

저는 이 군인의 행동을 강하게 비판하며, 모든 무슬림 공동체가 이에 대해 목소리를 내길 촉구합니다. 어떤 종교의 신자도 다른 종교를 모욕할 권리는 없습니다. 이러한 행동은 다른 사람들의 마음에 깊은 상처를 주기 때문입니다.

또한 기독교인들에게도 말씀드리고 싶습니다. 만약 이러한 일에 대해 침묵하고 있거나 목소리가 너무 작다면, 이는 매우 안타까운 일입니다. 이런 상황에서는 모든 사람이 함께 목소리를 내야 합니다.

이와 같은 행동에 대해 모든 인간은 자신의 목소리를 낼 권리가 있습니다. 우리는 인간으로서 서로를 존중할 때에만 평화롭게 공존할 수 있습니다. 누군가를 모욕하거나 상처 주면서 평온하게 살 수 있다고 생각하는 것은 잘못된 생각입니다. 고통은 반드시 되돌아옵니다. 오늘이든 내일이든, 이 세상이든 다음 세상이든 반드시 그 대가를 치르게 됩니다.

그래서 심판의 날(내세)에 대한 개념도 중요한 것입니다.

부디 제 말이 여러분께 잘 전달되기를 바라며, 인간의 화합과 평화를 방해하는 모든 요소에 대해 함께 반대의 목소리를 내주시길 부탁드립니다.

감사합니다.
미안 이르판 아흐메드 시디키 드림.

#MBCNews #christianity #Christians #islam #MuslimUnity #ChristianEducation #기독교 #한국기독교

19 April 2026

کاش کبھی باتوں سے ہی کام ہوا کرتےیقین محکمکہ زمانے میں صرف ہمارے ہی نام ہوا کرتے۔۔۔

‏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کاش کبھی باتوں سے ہی کام ہوا کرتے
یقین محکم
کہ زمانے میں صرف ہمارے ہی نام ہوا کرتے۔۔۔

شروع شروع میں سوشل میڈیا پہ ا کر اپنی بات کو کرنا لوگوں کی بات کو سننا اور ان کے ساتھ گفت و شنید کرنی۔۔ اس میں بہت دلچسپی اور بہت اچھا لگتا تھا کہ شاید ہم بات کر کے اور اسی طرح اپنے ارد گرد کا ماحول چینج کر سکتے ہیں۔

لیکن یہاں ا کے پتہ چلا کہ یہاں بھی دوسرے لوگوں کی طرح صرف باتیں زیادہ اور کام بہت کم صرف یہاں گنتی چلتی ہیں قصے کہانیاں چلتی ہیں اور جہاں ایکشن کی بات اتی ہے یا کوئی کام کی بات اتی ہے تو بھی اج کیا کام کیا، کیا پلان بنایا کیا کام ہونا چاہیے، کہاں تک ہوا، اگے کیا کرنا ہے اس طرح کی کوئی بھی ایکٹیوٹی دور دور تک نظر نہیں اتی۔۔

جبکہ کوئی بھی چیز کوئی بھی گفتگو اگر وہ کام میں نہیں بدلتی یا وہ گفتگو کا اینڈ رزلٹ پروگریس نہیں ہے تو وہ محض صرف باتیں اور اس کا کوئی حاصل نہیں وہ اپ 24 گھنٹے کریں سال کے 365 دن کریں اس سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں۔

اس لیے میرا دل چوپٹ ہو چکا ہے روز آ کر سیم باتیں، کہانی سننا سنانا یہ بہت مشکل بات ہے۔

شاید یہ میرے لیے بہت غلط ہو شاید میں پورا سمجھ نہ پایا ہوں شاید کہیں یہ میری کمزوری ہو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہی ایکٹیوٹی وہی لوگ وہی تنظیم کچھ نہ کچھ مثبت کردار ادا کر سکتی ہے جو کچھ کرنے کے دم پہ ہے اور جو کچھ کرتی ہے کرنے کے بعد اپنے موضوعات کے اوپر اپنے کارکردگی کے اوپر گفت و شنید کرے تو اس میں جوش جذبے سے انے اور کام کر کے اور کرنے والوں کے کام سن کے دیکھ کے ایک جوش بڑھتا ہے
لیکن روز کی بنیاد پر وہی باتیں، الزامات یہ چیزیں کانوں کو بھی بھاری لگتی ہیں اور اپنے دماغ کو بھی۔۔

اللہ کرے اگر میں کہیں غلط ہوں تو اللہ مجھے راستہ دکھائے اور اگر یہ پوسٹ پڑھنے والے یا وہ دوست جو یہ سمجھتے ہیں یا سوچتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے تو اسی طرح اگے بڑھ کے مل کے اس معاشرے کی بھلائی کے لیے سیکھنے سکھانے کے لیے ایک دوسرے کے فائدے کے لیے اگر کچھ کام کیا جائے اور وہ ساتھ مل کر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اپنے مشورے اپنی کارکردگی یا جو بھی ان کے ذہن میں کچھ ہے وہ بتائیں اور مل کر کچھ کر سکیں۔

اکیلے اکیلے کرنے سے ایک ٹیم کا ایک گروپ کا کرنا زیادہ موثر و اثر انداز ہوتا ہے۔
اکیلا کرنا صرف ایک ہوتا ہے جیسے دو کرنے سے 11 اور ایک ٹیم کے کرنے سے پورا اثر ہوتا ہے۔

کیونکہ اگر اپ اسلام کے رویے کو دیکھیں تو اس میں بھی جماعت کی بات کی گئی ہے اور جماعت ہمیشہ گروپ اور گروہ کو بولا جاتا ہے جمعہ بھی بڑی مسجد میں پڑھنے کا اسی لیے بولا ہے کہ بڑی جماعت کریں اور بڑی جگہ کے اوپر مشورے اور مشاورت کریں تاکہ اس کا امپیکٹ پورے معاشرے پے ہو۔
اللہ ہمیں سمجھنے سمجھانے سوچنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیکن ہمیشہ کی طرح وہی خدشہ کہ لوگ ائیں گے پڑھیں گے سنیں گے اور چلے جائیں گے۔۔
ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔

امین ثم امین

میاں عرفان احمد صدیقی

#Pakistán#اسلامزندہباد#پاکستانزندہباد

کشمیر۔۔۔کشمیری لوگ

‏کشمیر۔کشمیری لوگ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  جیسے کشمیر کو اللہ نے ایک خوبصورت زمین کا ٹکڑا بنایا ہے۔ اسی طرح...