السلام علیکمپاکستان، حکومت، فوج، وادی تیرہ اور دنیا۔

نقل مکانی اور انخلا: 25 جنوری تک لوگوں کو رضاکارانہ یا جبری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ڈیڈ لائن تھی۔ ہزاروں خاندان (تقریباً 130,000 افراد کا تخمینہ) سخت سردی، برفباری اور شدید موسم میں اپنے گھر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ کیمپوں، سکولوں یا دیگر جگہوں پر منتقل ہوئے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات (کھانا، کمبل، علاج) کی شدید کمی کی شکایات ہیں۔
حکومتی موقف:
وفاقی حکومت (عطا تارڑ سمیت وزراء) اور فوج کا کہنا ہے کہ کوئی جبری انخلا یا "ڈی پاپولیشن" کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہ سب رضاکارانہ ہے، اور پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔ خفیہ/انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں، اور فوج ریلیف کام بھی کر رہی ہے (کھانا، کمبل، طبی امداد تقسیم)۔
خیبر پختونخوا حکومت کا موقف:
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور (یا سہیل آفریدی جیسے لیڈرز) کا دعویٰ ہے کہ لوگوں کو زبردستی نکالا جا رہا ہے، وفاق غلط بیانی کر رہا ہے، اور یہ سیاسی انتقام ہے۔ اگر آپریشن نہ روکا گیا تو نئی حکمت عملی بنائیں گے۔
عوامی اور سوشل میڈیا ردعمل:
X (ٹوئٹر) پر لوگ شدید غم و غصے میں ہیں۔ ویڈیوز اور پوسٹس میں بے گھر ہونے، بھوک، سردی اور ظلم کی باتیں ہیں۔ کچھ لوگ فوج پر الزام لگا رہے ہیں، کچھ کہہ رہے ہیں کہ دہشت گردوں سے نجات ضروری ہے مگر عوام کو تکلیف نہ دی جائے۔
شدید برفباری اور موسم کی وجہ سے مشکلات دوگنی ہو گئی ہیں۔
ریلیف کام جاری ہیں، مگر متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
سیاسی تنازع جاری ہے — وفاق اور کے پی کے درمیان الزام تراشی ہو رہی ہے۔
علاقے میں دہشت گردوں (خاص طور پر TTP سے منسلک) کے خلاف کارروائی کا مقصد ہے، مگر اس سے عام لوگوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔