17 January 2026

اقرار الحسن کو پارٹی بنانے پر مبارکباد۔

السلام علیکم 
اقرار الحسن میں اپ کو بہت بہت مبارک پیش کرتا ہوں اپ نے جو پارٹی بنائی ہے۔۔۔
پیارے بھائی اس مبارک کے ساتھ ساتھ اپ کو ایک مشورہ بھی ہے۔۔
برادر ملک پاکستان کے اندر پارٹی کی کمی نہیں ہے ہر گلی 
ہر محلے پورے ملک کے اندر پارٹیوں کا انبار لگے ہوئے ہیں۔۔۔

پیارے بھائی مین چیز ہے کہ پاکستان کے لیے کام کرنا پاکستانی عوام کے لیے کام کرنا اور حقیقی پاکستان کا سوچنا یہ سب سے امپورٹنٹ گول ہے
 جس کے اندر جو حقیقی پاکستان کا فائدہ کرنے کے لیے جو پاکستان کے خاطر اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے خلوص نیت سے لوگ اتے ہیں یا تو 
وہ راستے میں بک جاتے ہیں یا  ان کے ساتھ مفادات میں شامل کر لیا جاتا ہے یا وہ خود اپنے ذاتی مفادات کے لیے اپنے اپ کو سیل پر لگا دیتے ہیں۔
 پیارے بھائی اگر اپ نے بھی انہی جماعتوں کی طرح اسی طرح کرنا ہے تو پھر اس تنظیم کا اس جماعت کا نوجوانوں کے انرجی کا اپ ٹائم ویسٹ کریں گے اور اپنا تو اپ کریں گے ہی۔۔
اگر تو اپ خلوص نیت سے ہیں دیکھو اپ کی نیت ہمیں نہیں پتہ اپ کی نیت کا اپ کو زیادہ پتہ ہے اور اپ کے اوپر بلکہ سب کے اوپر اللہ دیکھ رہا ہے۔ 
اب یہ اللہ کو پتہ ہے کہ اپ کی نیت کیا ہے اور اپ کو پتہ ہے کہ اپ کی نیت کیا ہے۔
 جس دن ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ واقعی اپ بھی پاکستان کا سوچتے ہو  اس دن سے میں بھی اپ کو بھرپور سپورٹ کروں گا ۔

ہم اس میں اپ کو مبارکباد دیتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ اپ عمران خان نواز شریف زرداری اور اس طرح دوسرے جتنے بھی بڑے پولیٹیشن ہیں یا تھے یا نیکسٹ ائیں گے ان کی حمایت یا مخالفت کیے بغیر اپ صرف اپنے کام پر توجہ دیں گے اور اپنا کام کریں گے اور لوگوں کو اپنی پرفارمنس اور لوگوں کو بتائیں گے کہ سیاست اس کو کہتے ہیں جب مجھے یہ لگ جائے گا کہ اپ واقعے میں پاکستانی اور صرف اور صرف پاکستان کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اور اب تک میں یہ سوچتا ہوں کہ عمران خان پاکستان کا سوچتا ہے عمران خان پاکستان کا مخالف بالکل بھی نہیں ہے اس لیے اگر اپ بھی پاکستانی ہو اور پاکستان کا سوچتے ہو تو امید ہے کہ اپ بھی عمران خان کے ساتھ مل کر کام کرو گے۔
ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ اپ اس کی پارٹی میں شامل ہو جائے اس کی پارٹی کے ساتھ اپ کوئی کنٹریکٹ کر لو ملنے کا مطلب ہے کہ اپ کا ڈائریکشن سیم ہونی چاہیے اور وہ ڈائریکشن ہے پاکستان اونلی اونلی پاکستان۔
 جہاں عمران خان غلط کرے گا اپ اس کے سامنے دیوار بنو یہی ایک اپوزیشن کا مقصد ہوتا ہے کیونکہ اب اپ کی پارٹی ائی ہے تو اپ کبھی بھی عمران خان کے اگے حکومت میں نہیں ا سکتے اگر اپ کو ان کی سپورٹ نہ ہو جو ان سب کو لے کے اتے ہیں۔

ہم اور اج کے نوجوان اور یہ عوام اپ کو بڑے غور سے اور بڑے نزدیک سے دیکھیں گے اور امید ہے کہ اپ جس مقصد کے لیے ائے ہو وہ پتہ نہیں لیکن ہمارا مطلب اور مقصد سے بھی یہی ہے کہ اپ جو ہے اس عوام کے لیے ان لوگوں نے کام کریں اور اللہ اپ کا حامی و ناصر ہو۔
شکریہ
میاں عرفان احمد صدیقی 
پاکستان زندہ باد 
#pakistan #pakistanzindabad

بنگلہ دیش کے علیحدہ ہونے کی تین سب سے اہم وجوہات

🇧🇩  
بنگلہ دیش کے علیحدہ ہونے کی تین سب سے اہم  وجوہات

1) سیاسی حق و نمائندگی کا انکار (سب سے بڑا سبب)
1970 کے عام انتخابات:
مشرقی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت آوا می لیگ نے واضح اکثریت سے انتخابات جیتے، جنہوں نے سیاسی اقتدار منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
مگر مغربی پاکستان کی قیادت نے اس انتخابی نتیجے کو تسلیم نہ کیا اور طاقت پر قابو رکھنے کی کوشش کی۔
یہی عمل سیاسی بحران کو جنم دیتا ہے۔ �
اس وجہ کی اہمیت: یہ بنیادی وجہ تھی جس نے مشرقی پاکستان میں مکمل علیحدگی کا حق 
(Self-determination) مؤثر طور پر شروع کیا، کیونکہ عوام نے خود اپنے حکمران منتخب کرنے کا جمہوری حق مانگا تھا۔

2) ثقافتی اور لسانی امتیاز (ذات-هویت/identity کا مسئلہ)
لسانی حساسیت:
تقسیم کے فوراً بعد ہی اردو کو واحد قومی زبان قرار دینے کی پالیسی نے بنگالی عوام میں گہری ناراضگی پیدا کی—جس نے لسانی قومی شناخت کے لیے تحریک کو مزید تقویت دی۔
یہی احتجاج اور بنگالی زبان تحریک نے مستقبل کے قوم پرستی (nationalism) کو مضبوط بنایا۔ �
اس وجہ کی اہمیت: لسانی و ثقافتی امتیاز نے عوامی شعور میں احساسِ نمائندگی کی شدت کو بڑھایا، جس نے بعد میں آزاد ریاست کے مطالبے کو ایک قومی تحریک میں تبدیل کر دیا۔

3) معاشی استحصال اور غیر مساوی ترقی
اقتصادی عدم مساوات:
مشرقی پاکستان نے 70 ٪ تک برآمدات فراہم کیں مگر اسے ترقیاتی فنڈز اور سرمایہ کاری کا مناسب حصہ نہیں ملا۔
وسائل مغربی پاکستان میں زیادہ استعمال ہوئے، جس نے مشرقی پاکستان میں نفسیاتی اور عملی طور پر احساسِ محرومی پیدا کیا۔ �

اس وجہ کی اہمیت: اقتصادی ناانصافی نے سیاسی اور ثقافتی محرومی کے ساتھ مل کر ایک مضبوط علیحدگی کی بنیاد فراہم کی۔

🇵🇰 جنگ اور تشدد (اوپریشن سرچ لائٹ) – ایک سرکاری کارروائی
جب مشرقی پاکستان میں عوامی مطالبات نے سیاسی احتجاج اور عدم تعاون کی تحریک اختیار کی، تو پاکستان آرمی نے 25 مارچ 1971 کو Operation Searchlight کے تحت وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی۔
اس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، شہریوں، طلباء، intelellectuals، خواتین پر مظالم شامل تھے۔ �
یہ واقعہ تحریکِ آزادی کو مزید مضبوط اور مشروع بنا گیا کیونکہ عوام نے مسلح جدوجہد کو آزادی کا واحد راستہ سمجھا۔

🤔 سب سے زیادہ “قصوروار” کس کو ٹھہرا جاتا ہے؟

یہ سوال سیاسی، تاریخی اور نقطہ نظر پر مبنی بحث ہے، جس کے متعدد زاویے ہیں:

🟠 1) پاکستانی ریاست اور فوجی قیادت
پاکستان آرمی کی فوجی کارروائی، آپریشن سرچ لائٹ اور بنگالی شہریوں پر مظالم کو بنگلہ دیش میں آج بھی سب سے بڑا بدعنوانی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ �
صرف فوج نہیں، بلکہ بیوروکریسی اور طاقت کے مراکز جو جمہوری عمل کو روکے، وہ بھی ذمہ دار دیکھے جاتے ہیں۔

🟡 2) سیاستدان ـ پاکستانی سیاسی قیادت
1970 کے انتخابات کا نتیجہ تسلیم نہ کرنا، اور عوامی مطالبات پر مذاکرات کی بجائے طاقت کا استعمال، کچھ مبصرین کے مطابق سیاسی قیادت کی ناکامی تھی۔ �

🟢 3) مشرقی (بنگالی) قیادت
بنگلہ دیش میں کچھ لوگ (خاص طور پر بعض داخلی مبصرین) کہتے ہیں کہ مکمل علیحدگی کو جواب کے طور پر بھرپور استعمال کرنا بھی ایک انتخاب تھا، نہ کہ صرف جبراً عمل۔
تاہم زیادہ تر بین الاقوامی اور تاریخی حساب میں، یہ مشرقی عوام کا حقِ خود ارادیت کا مطالبہ سمجھا جاتا ہے—not a “mistake”.

📌 خلاصہ (مختصر)
📌 سب سے بڑا سبب (1) سیاسی حقوق کا انکار
📌 دوسرا سبب (2) ثقافتی زبان و شناخت
📌 تیسرا سبب (3) معاشی استحصال
📌 بلواسطہ سبب: فوجی تشدد اور ظلم
📌 قصوروار کی بحث:

• بہت سے بنگالی مورخ پاکستانی ریاست اور فوجی قیادت کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
• بعض پاکستانی مبصرین میں سیاسی الجھنوں پر بحث جاری ہے۔
قیامِ بنگلہ دیش کے پسِ منظر کو عموماً معاشی، سیاسی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تسلسل کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ �


🗓 1971 –
 بنگلہ دیش آزادی جنگ – کلیدی خبریں / ٹائم لائن

📌 
فروری – مارچ 1971 (جوش و ولولہ اور سیاسی کشمکش)
13 فروری: صدر یحیٰ خان اعلان کرتے ہیں کہ نیشنل اسمبلی 3 مارچ کو ڈھاکہ میں بلائی جائے گی — مگر بعد میں ملتوی کر دی جاتی ہے۔ �

1 مارچ: اجلاس کو 29 مارچ تک موخر کر دیا جاتا ہے، جس سے مشرقی پاکستان میں ناراضگی بڑھتی ہے۔ �

2 مارچ: ڈھاکا یونیورسٹی میں طلباء پہلی بار بنگلہ دیش کا پرچم لہراتے ہیں۔ �

3 مارچ: لوگ اجتماع میں بنگلہ دیش کے حق میں نعرے لگاتے ہیں اور خود ارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ �

7 مارچ: شیخ مجیب-الرحمٰن مشہور تقریر دیتے ہیں:
Liberation War
“یہ جدوجہد ہماری آزادی کی جدوجہد ہے!”
یہ تقریر عوام میں آزادی کے جذبے کو بھڑکا دیتی ہے۔ �

Amardesh
📌
25
 مارچ 1971 – پاکستان فوج کا طاقت کے ساتھ آغاز

🌙 آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوتا ہے – پاکستان آرمی نے ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کی، جس میں علماء، طلباء، شہریوں، سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یہی رات کو بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کا آغاز سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کے بعد سے عوامی اور فوجی مزاحمت تیز ہو گئی۔ �
CalendarZ

📌 26 مارچ 1971 – آزادی کا اعلان
📻 بنگلہ دیش نے پاکستان سے آزادی کا اعلان کیا اور اس دن کو بنگلہ دیش میں یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
یہ تاریخ آٹھ ستمبر 1971 تک جاری رہنے والی جنگ کی سب سے اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ �
Amardesh

📌 اپریل – دسمبر 1971 – جنگ کی گہرائی
اپریل-دسمبر:
🔹 مکتی باہنی (Freedom Fighters) کے طور پر شہریوں اور چھوٹے فوجی گروپوں نے پاکستان فوج کے خلاف گوریلا اور روایتی لڑائیاں شروع کیں۔ �
🔹 اسی دوران گھرگھرتی تباہی، ہلاکتیں، اور بربریت ہوتی رہی—جس میں ہزاروں عام شہری ہلاک ہوئے اور لاکھوں ہندوستان کی طرف پناہ گزین ہوئے۔ �
🔹 کئی اہم واقعات میں برگو نا قتل عام جیسے واقعات شامل ہیں، جہاں بیشتر بنگالی ہندو اور آزادی پسند مارے گئے۔ �


📌 دسمبر 1971 – جنگ کا اختتام
3 دسمبر: پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شروع ہوتی ہے، جب پاکستان نے ریاستی سطح پر فضائی حملے کیے۔ �
16 دسمبر 1971:

🎖 پاکستان فوج مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں بھارتی مشترکہ افواج کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں۔

🇧🇩 اس دن بنگلہ دیش آزاد ملک کے طور پر تشکیل پاتا ہے — جسے بنگلہ دیش میں یومِ فتح (Victory Day) کہا جاتا ہے۔ �
CalendarZ

📰 مختصر تاریخ “نیوز ہیڈلائنز اسٹائل” واقعات (1971)

1 مارچ
صدر یحیٰ خان نے اسمبلی اجلاس موخر کر دیا — عوامی حکومت پر بحران بڑھا۔ �
Liberation War

7 مارچ
شیخ مجیب کی آزادی کی تاریخی تقریر — عوام میں انقلاب کا جذبہ۔ �
Amardesh

25 مارچ
آپریشن سرچ لائٹ: پاکستان فوج نے بڑے پیمانے پر کارروائی کی۔ �
CalendarZ

26 مارچ
بنگلہ دیش نے آزادی کا اعلان کیا — ‘Daily Telegraph’ اور بین الاقوامی ذرائع رپورٹنگ میں شامل۔ �
Amardesh

مئی-دسمبر
مزاحمت، گوریلا جنگ، شہریوں اور فوجی پر تشدد واقعات رپورٹ ہوئے۔ �
CalendarZ

3 دسمبر
Indo-Pak جنگ شروع — عالمی میڈیا رپورٹنگ۔ �
CalendarZ

16 دسمبر
پاکستان فورسز کی ہتھیار ڈالنے کی خبر، بنگلہ دیش بن گیا۔ �

Note:
پاکستان اور بنگلہ دیش کو ماضی کے تلخ حقائق کو بھول کر مستقبل کی کے لیے بھرپور کوششیں اور پاکستان بنگلہ دیش ملکازم سے نکل کر اسلام ازم کی طرف ائیں اسلام پوری انسانیت کے لیے بھلائی کا درس دیتا ہے پیار محبت کا درس دیتا ہے تو اس درس کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام زندہ باد کہیں اس درس کو سامنے رکھتے ہوئے انسانیت زندہ باد کہیں انسان انسانوں کے لیے ہیں ملک و قوم ایک شارٹ ٹرم سٹریٹجی ہے
 بلکہ لانگ ٹرم سٹیٹ سٹریٹجی صرف انسانیت ہے۔
 شکریہ
تحریر: میاں عرفان احمد صدیقی

اقرار الحسن کو پارٹی بنانے پر مبارکباد۔

السلام علیکم  اقرار الحسن میں اپ کو بہت بہت مبارک پیش کرتا ہوں اپ نے جو پارٹی بنائی ہے۔۔۔ پیارے بھائی اس مبارک کے ساتھ ساتھ اپ کو ایک مشورہ ...