06 February 2026

بسنت انجینئر مرزا محمد علی کی نظر میں

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
انجینیئر محترم بڑے ادب سے اپ سے گزارش ہے۔
جب اپ کو اس چیز کا پتہ ہے کہ اسے گلے کٹتے ہیں جب اپ کو اس چیز کا پتہ ہے کہ اس کا نقصان ہوتا ہے جب اپ کو اس چیز کا پتہ ہے کہ یہ اپ کا بچپن نہیں ہے یہ وہ والی ڈور نہیں ہے جو اپ یوز کرتے تھے۔
اپ کی انگلی کی سکن بہت زیادہ سخت ہے بانسبت اپ کے گلے کی  سکن سے۔۔۔

ویسے تو اپ انجینیئر ہو ماشاءاللہ لیکن اپ کو انگلی کے ماس کی طاقت اور گلے کے ماس کی طاقت کا اندازہ تو بخوبی ہونا چاہیے تھا۔

ان سب چیزوں کے پتہ ہونے کے باوجود اپ اس کو ایک بٹر ورڈز یوز کر کے یعنی کہ مکھن ملائی لگا کے اپ یہ بولو کہ یہ بہت اچھی ایکٹیوٹی ہے کہ کون سی ایکٹیوٹی ہے جس کی وجہ سے اپ کا کوئی کاروبار رکا ہوا ہے یہ کون سی ایکٹیوٹی ہے جس کی وجہ سے اپ کو کوئی خوشی نہیں چڑھ رہی یہ کون سی ایکٹیوٹی ہے جس کی وجہ سے اپ کے ملک کی ترقی رکی ہوئی ہے یہ کون سی ایسی ایکٹیوٹی ہے جس کی وجہ وہ رکی ہوئی ہے۔۔۔
کس قسم کے علماء ہوں اپ لوگ اپ لوگوں کو یہ نہیں سمجھ اتی کہ ملک کے اندر اور عوام کے اندر کتنی پریشانی اور اس ٹائم ماحول کیسا ہے اور اس کے اندر اپ ایک گورنمنٹ کی فیور کے اندر بیان دے دیتے ہو جبکہ اپ کو یہ نہیں پتہ چلتا کہ عوام کی تکلیف کیا ہے اور گورنمنٹ کے مفادات کیا ہیں افسوس ہے اپ لوگوں کے اوپر۔
ایسے موقع پر صرف یہی بولا جا سکتا ہے 
 کہ انا للہ وانا الیہ راجعون 

میاں عرفان احمد صدیقی

05 February 2026

پاکستان کا فیوچر

 پاکستان کا فیوچر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سچ پوچھو تو پاکستان کا فیوچر مشکل بھی ہے اور اُمید والا بھی —

حقیقت یہ ہے:

🔴 چیلنجز (جو سب کو نظر آتے ہیں) سیاسی عدم استحکام، بار بار کی لڑائیاں کمزور معیشت، مہنگائی، قرضے اداروں پر عوام کا اعتماد کم ٹیلنٹ ملک سے باہر جا رہا ہے (brain drain) یہ سب چیزیں اگر یونہی چلتی رہیں تو فیوچر سلو اور پریشر والا رہے گا۔
🟢 اُمید کی وجوہات (جو اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں) یوتھ پاور: پاکستان کی اکثریت نوجوان ہے، یہ سب سے بڑا اثاثہ ہے اوورسیز پاکستانی: بزنس، ریمیٹینس، نالج — سب باہر سے آ رہا ہے جغرافیائی اہمیت: چین، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ — پاکستان بیچ میں ہے ڈیجیٹل اور فری لانسنگ: لوگ ریاست پر نہیں، اپنی سکلز پر کھڑے ہو رہے ہیں
اصل گیم چینجر کیا ہو سکتا ہے؟ اگر قانون کی بالادستی واقعی آئے اگر ایک دو لیڈرز ویژن اور سچائی کے ساتھ کھڑے رہیں اگر یوتھ صرف سوشل میڈیا نہیں، سسٹم میں گھس کر لڑے تو 5–10 سال میں پاکستان سروائیو نہیں، ری بِلڈ کر سکتا ہے۔
میری ایماندار رائے ریاست کمزور ہے، قوم زندہ ہے پاکستان ختم نہیں ہو گا، لیکن یا تو آہستہ آہستہ مضبوط ہو گا یا مزید تکلیف کے بعد سیدھا ہو گا یہ قوم آزمائشوں کے بعد اٹھتی ہے۔
ٹھیک ہے، جذبات اور خواہشات ایک طرف رکھ کر صرف دنیا کی نظر سے، خالص حقیقت میں دیکھتے ہیں۔
دنیا پاکستان کو آج کیسے دیکھتی ہے؟ 1️⃣ Unreliable State دنیا کے بڑے پلیئرز (USA, EU, Japan, investors) پاکستان کو ایک غیر متوقع ملک سمجھتے ہیں: پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں حکومتیں پوری مدت نہیں نکالتیں معاہدوں کی continuity نہیں ہوتی
👉 نتیجہ: لانگ ٹرم انویسٹمنٹ نہیں آتی۔ 2️⃣ Economically Fragile عالمی اداروں کی نظر میں: Pakistan = IMF-dependent economy Low tax base High population, low productivity 👉 دنیا پاکستان کو بچایا جانے والا ملک سمجھتی ہے، لیڈ کرنے والا نہیں۔ 3️⃣ Security Risk (اگرچہ پہلے سے بہتر) حقیقت یہ ہے: دہشتگردی اب بھی ایک “risk factor” ہے سرحدی صورتحال (افغانستان، بھارت) investor کو cautious رکھتی ہے 👉 دنیا کہتی ہے: “Risk manageable ہے، مگر ideal نہیں”۔ 4️⃣ No Clear National Direction دنیا کسی ملک سے یہ دیکھتی ہے: “یہ ملک اگلے 20 سال میں کیا بننا چاہتا ہے؟” پاکستان کے بارے میں perception: کبھی چین بلاک کبھی ویسٹ بلاک کبھی اسلامک بلاک 👉 دنیا کو clear identity نظر نہیں آتی۔ پھر بھی پاکستان کو بالکل کیسے نہیں دیکھا جاتا؟
یہ بھی حقیقت ہے: Failed State → نہیں Isolated State → نہیں Irrelevant Country → نہیں
دنیا جانتی ہے: 240+ ملین آبادی ایٹمی طاقت اسٹریٹیجک لوکیشن مضبوط فوجی ادارہ 👉 اس لیے پاکستان کو ignore نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی cold reality prediction (5–10 سال) اگر سسٹم یونہی رہا: پاکستان low-growth, high-dependence ملک رہے گا IMF cycles چلتے رہیں گے Export-based economy نہیں بن پائے گی اگر (صرف اگر) governance ٹھیک ہوئی: پاکستان Vietnam/Indonesia model کی طرف جا سکتا ہے Cheap labor + market size = potential Pakistan is a country with potential that it consistently fails to convert into performance. یہ لائن تمہیں IMF، World Bank، اور investors کے دل کی بات بتا دیتی ہے۔
اقتصادی منظر نامہ 2026 میں پاکستان کی معیشت میں کچھ بہتری کی توقع ہے، لیکن ترقی کی شرح کم رہے گی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے مطابق، 2026 میں جی ڈی پی کی ترقی 3.0% تک پہنچ سکتی ہے، جو 2025 کی 2.7% سے قدرے بہتر ہے۔
اس کے ساتھ ہی افراط زر کی شرح 6.0% تک رہنے کی پیش گوئی ہے، جو پہلے کی بلند سطح سے کم ہے۔
گیلپ اور آئیپسوس کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 86% پاکستانی 2026 کے بارے میں پر امید ہیں.
تاہم، چیلنجز سنگین ہیں۔ جی ڈی پی کی 3.2% ترقی آبادی کی شرح سے بمشکل زیادہ ہے، جس سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قرضوں کی ادائیگی، کم برآمدات اور صنعتی شعبے کی کمزوری معیشت کو کمزور کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی پروگراموں پر انحصار جاری ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر اصلاحات کے، 2026-2027 میں معیشت نازک رہے گی۔
درمیانی طبقے اور غریب گھرانوں کے لیے یہ سال مزید مشکل ہو سکتا ہے، جہاں مہنگائی اور نوکریوں کی کمی بڑھ رہی ہے۔
سیاسی اور حکمرانی کا منظر سیاسی طور پر، 2026 کا آغاز تضادات سے بھرا ہے۔ کچھ شعبوں میں ترقی نظر آ رہی ہے، لیکن سیاسی پولرائزیشن اور آئینی تنازعات عوامی اعتماد کو کم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر حکمرانی، معاشی پالیسی اور سفارتی اصلاحات کے، ملک نازک رہے گا۔ فوجی اثر و رسوخ اور دہشت گردی کے پراکسیز کو ختم کیے بغیر حقیقی ترقی مشکل ہے۔
سماجی اور سیکورٹی چیلنجز سماجی سطح پر، آبادی میں اضافہ (255 ملین سے 370-400 ملین تک اگلے 25 سالوں میں) اور موسمیاتی تبدیلیاں بڑے مسائل ہیں۔
غربت کی شرح بڑھ رہی ہے، اور دہشت گردی، سرحدی تنازعات اور قدرتی آفات ملک کو کمزور کر رہے ہیں۔ کچھ رائے یہ بھی ہے کہ بغیر اصلاحات کے، پاکستان کا مستقبل غیر یقینی ہے، اور یہاں تک کہ ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ ہے۔ البتہ، تعلیم، رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر میں اصلاحات کی توقع ہے.
نتیجہ مجموعی طور پر، 2026 پاکستان کے لیے امید اور چیلنجز کا سال ہے۔ اگر اصلاحات پر توجہ دی جائے تو معیشت مستحکم ہو سکتی ہے، ورنہ مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ پالیسیوں، بین الاقوامی تعلقات (جیسے امریکہ، چین اور بھارت کے ساتھ) اور اندرونی استحکام پر منحصر ہے۔
یہ میرا غیر جانبدارانہ تجزیہ ہے، جو دستیاب ڈیٹا پر مبنی ہے۔

شکریہ
میاں عرفان احمد صدیقی



بسنت انجینئر مرزا محمد علی کی نظر میں

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  انجینیئر محترم بڑے ادب سے اپ سے گزارش ہے۔ جب اپ کو اس چیز کا پتہ ہے کہ اسے گلے کٹتے ہیں جب اپ کو اس چیز کا ...