احسن بھائی کی سپیس کے اندر اج ڈسکشن ہوئی اچھا لگا۔
بہت سارے کویسچنز تھے بہت ساری باتیں تھی لیکن شارٹ ٹائم میں بڑی تعداد میں بولنے اور سننے والوں کے اندر یہ ساری چیزیں ناممکن ہیں۔
میرے بہت سارے کویسچن جبران الیاس بھائی سے تھے میں نے سمجھا کہ ٹویٹ کے ذریعے ہی پوچھ لینا زیادہ مناسب ہوگا۔
1. جبران بھائی اپ نے بولا کہ کہ سوشل میڈیا کے پاس اتنی اتھارٹی نہیں ہے کہ وہ کسی کو کچھ کرنے پر دباؤ دے سکے یا ذمہ داری لگا سکیں ایگری۔
لیکن بھائی جان سوشل میڈیا کے پاس یہ پوری اتھارٹی ہے کہ وہ پوائنٹ اؤٹ کر سکے سوشل میڈیا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کو سیم اسی طرح دکھائے جیسے وہ ہے تاکہ جو دیکھنے سننے پڑھنے والے ہیں وہ اس حقیقت کو ایک ڈائریکشن ایک بیانیہ ایک نیریٹو کو پرموٹ اور ایک سمت میں لے کر چلیں یہ چھوٹا کام نہیں ہے۔
یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اگر اس کو سمجھ آ جائے۔
2. جبران بھائی اپ نے بولا کہ ایک عمران خان کا ٹویٹ وہ بھی ری ٹویٹ نہیں ہوتا لوگ اس کو بھی ری ٹویٹ نہیں کرتے۔
افسوس کی بات ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کا ٹویٹ ہو یا کسی بھی پاکستانی کا ٹویٹ ہو وہ بات پاکستان کی کرے انصاف کی کرے حق کی کرے مسلمانیت کی کرے انسانیت کی کرے دیکھنے والے اور پڑھنے والے کو چاہیے کہ وہ بلا امتیاز بغیر کسی سوچے سمجھے کہ اگلا بندہ کون ہے اس پہ توجہ دیے بغیر وہ صرف یہ دیکھے کہ وہ جو بات ہوئی ہے وہ ٹھیک ہے اگر تو وہ ٹھیک ہے تو اس کو بھی چاہیے کہ وہ اس کی حمایت کرے اگر کوئی غلط بات کرے تو اس کی بھی پوری پوری مذمت کرے یہ خالی پاکستانی ہونے والوں پر فرض نہیں ہیں یہ ہر اس انسان کا فرض ہے کہ وہ اس کام کو فریضہ سمجھ کر قوم کی امانت سمجھ کر کرے کیوں کہ ماحول کو بنانے کے لیے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور انسان اپس میں مل کر ایک ماحول ایک معاشرہ بناتے ہیں ایک ایک انسان اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اللہ نے اس کو دی ہے اور انسانوں سے ہی معاشرے بنتے ہیں۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر معاشرے کے اندر جتنی بھی برائیاں ہوتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہاں کے رہنے والے لوگوں کی وہ برائیاں ہیں جو معاشرے کے اندر ریفلیکٹ کر رہی ہیں اگر پاکستان کے اج حالات اتنے برے نظر ارہے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم انفرادی طور پر کہیں نہ کہیں ان بیماریوں کے اندر مبتلا ہیں۔
یقینا کہیں نہ ہم کو وہ پکچر نظر نہیں ارہی یا نہیں دکھائی جا رہی۔ یا پھر ہمیں دیکھنے کی وہ شعور کی انکھ جسے وہ چیزیں نظر اتی ہے وہ بیدار نہیں ہوئی۔
اس لیے ہمیں حقیقت سے زیادہ جھوٹی اور غلط افواہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تو پھر اس کا حل کیا ہے اس کا حل یہی ہے کہ میں اپ اور ہم سب مل کر اچھائی اور اچھا بنے اور اس کو پروموٹ کریں اس پر عمل کریں ایک ایک کر کے تھوڑا تھوڑا کر کے ہم بہت تھوڑے عرصے میں بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن سب سے ضروری چیز ہے کرنا اگر کام نہیں ہوگا تو رزلٹ بھی نہیں ائے گا کیونکہ کام سے ہی تبدیلیاں اتی ہیں کام کرنے سے ہی غلط اور صحیح ہوتا ہے نیت ٹھیک ہو تو غلط کام کو اپ دوبارہ صحیح کر سکتے ہو لیکن کام کرنے سے پہلے ہی اگر اپ کی نیت کے اندر فتور ہوگا تو اپ کا کوئی کام بھی صحیح نہیں ہوگا کیوں کہ اپ کی نیت غلط ہے تو رزلٹ یقینا غلط ہی ائے گا۔
اج اگر پی ٹی ائی اپنے مقصد میں ناکام ہے تو اس میں ان کی نیت اور ان کی وہ کارکردگی ہے جو ان کو کرنی چاہیے تھی وہ نہیں کر رہے اس لیے اس کا رزلٹ بھی نہیں ہے۔
پاکستان کے اندر بھی جتنی برائیاں جتنے مسائل ہیں وہ سب پاکستانیوں کے اندر موجود ہیں اور کرپٹ و غلط لوگ وہ صرف اس لیے کامیاب ہوتے ہیں کہ جب شریف لوگ اپنا منہ بند کر لیتے ہیں اور اپنی اواز اٹھانا چھوڑ دیتے ہیں جب اپ غلط کو غلط بولو گے صحیح کو صحیح بولو گے تو یہی اسلام کی تعلیمات میں سے ہے کیونکہ اسلام کے اندر یہ کھلا لکھا ہوا ہے کہ اپ برائی کو ہاتھ سے روکو اگر طاقت نہیں تو پھر اپنی زبان سے روکو دل میں برا جاننا تو یہ ان لوگوں کا کام ہے جو چلنے پھرنے بولنے سے ناکام ہو چکے ہیں یا ضعیف ہو چکے ہیں۔
امید ہے کہ میری بات اپ کو کہیں نہ کہیں اثر کرے گی انشاء اللہ کیونکہ یہ میری بات نہیں میں نے بزرگوں کی کی ہوئی بات کو صرف اپ کے سامنے پیش کیا ہے۔
اللہ ہم سب کو سچا اور پکا مسلمان اور انسان بنائے۔
امین ثم امین
میاں عرفان احمد صدیقی
#islam
#Pakistan
#PTIofficial
#PTISocialMedia
#gbtrade
No comments:
Post a Comment