السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جیسا کہ اپ سب کو یہ معلوم ہے کہ ایران اور اسرائیل کی جنگ اور اس کے اندر امریکہ کی معاونت جو اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوشش کر رہا ہے لیکن کیا اپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اس کو حل کر پائے گا؟
سب سے پہلے تو میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اج پوری دنیا میں پاکستان کا نام ہر ٹی وی سوشل میڈیا اور دنیا کے اخبارات کے اندر پبلش کیا جا رہا ہے یہ بھی اللہ کا ایک معجزہ ہے کہ وہ ملک جس کے اندرونی حالات معاشی حالات پوری دنیا کے سامنے ہیں اس کے باوجود اللہ نے فری کے اندر پاکستان کے نام کو پوری دنیا کے اندر نشر کروا دیا یہ اگر کوئی ملک چاہے بھی پوری دنیا کے اندر اپنی ایڈ دینا۔
اتنی بڑی گرانٹ اتنی بڑی کوشش یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے میرا ناقص خیال ہو سکتا ہے اپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن میں اس پہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔
اج ایران کے شہزادے مسلمانوں کا فخر جو چاہے اپنی زمین کے لیے لڑ رہے ہیں لیکن ان کے نام کے ساتھ مسلمان لکھا جاتا ہے اس لیے کہ ہمارا دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ ایسا ہی ہے
جیسے ایک جسم ہو جب جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم اس کو محسوس کرتا ہے۔
میری اللہ سے دعا ہے کہ یہ سوچ یہ فکر پوری دنیا کے مسلمانوں کے اندر ا جائے اور وہ ایک ہو جائے صرف انسانیت کے لیے صرف اللہ کے لیے صرف پیار محبت کے لیے دنیا کی بھلائی کے لیے جس مقصد کے لیے انسان ایا ہے انسان اپنے لالچ اپنی حیوانیت کی وجہ سے ایسے عمل کرتا ہے۔
جسے دنگا و فساد جنم لیتے ہیں اور پھر اگ کو بڑھانے کے لیے اس کا ساتھ شیطان بھرپور طریقے سے دیتا ہے لیکن یاد رکھیے شیطان تب تک اپ کے قریب نہیں اتا جب تک اپ کے اندر شیطانیت پیدا نہیں ہو جاتی شیطان بھی اپنوں کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کو اپنا سمجھتا ہے اس لیے وہ اپ کا ساتھ دیتا ہے، تو اب یہ فیصلہ اپ نے کرنا ہے کہ اپ نے رحمانی ہونا چاہتے ہیں یا شیطانی؟
اور دوسری طرف میں اپنے ملک کے حکمرانوں اور عیاش رشوت خور بے ایمان طبقے کے لوگ جو ہر ادارے ہر گروپ کے اندر شامل ہوتے ہیں ان کو یہ تلقین کرتا ہوں درخواست کرتا ہوں کہ خدارا اب بہت ہو گیا ہے اب واپس ا جائیے اور سوچیے پاکستان کا پاکستان ہے تو اپ سب لوگ ہو پاکستان کے اندر مسئلہ ہے تو یہ اپ سب کا مسئلہ ہوگا۔
اللہ ہمیں سوچنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
امین ثم امین
میاں عرفان احمد صدیقی
No comments:
Post a Comment