17 March 2026

اؤ تجھے پاکستان کے دکھڑے سناؤں۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

ساؤتھ کوریا کے اندر ایران کی اور اسں سے پہلے فلسطین کے حوالے سے اکثر اس طرح کی ریلیاں وقتن فوقتن نکلتی رہتی ہیں۔۔

میں پچھلے 26 سال سے ساؤتھ کوریا میں مقیم ہوں۔
اور میں اپ کو پورے یقین سے یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ لوگ یہ ریلیاں جس کسی وجہ سے نکالتے ہیں ان کا ہمیں پتہ نہیں لیکن ایک بات طے ہے جو میری اور اپ کی نظر دیکھ رہی ہے کہ یہ لوگ جو اس طرح نکلتے ہیں جو مقصد ان کا سامنے نظر ارہا ہے وہ صرف یہی ہے انسانیت اور صرف انسانیت کے لیے۔

میرا ماننا یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب ہو وہ انسانیت کو پیچھے ہٹا کے اپنے اپ کو پروان کبھی بھی نہیں چڑھا سکتا کیونکہ سب سے پہلے انسانیت ہوتی ہے ہم  انسان پیدا ہوتے ہیں اس کے بعد ہم کوئی نہ کوئی مذہب کو بائے بردھ یا بائی چوائس اڈاپٹ کرتے ہیں۔
مذہب کا مقصد اپ کی طرز زندگی کو بہتر بنانا اور اخرت کی کامیابی کے لیے گوشہ رہنا دوسرے لفظوں میں یہ کہیں نہ کہیں ہماری زندگی کی گائیڈ بک کا نام ہے۔۔ 
اور یہ میں بڑے وسوخ سے کہہ سکتا ہوں کہ ان لوگوں کو ہمارے یا کسی بھی مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اگر یہ کر رہے ہیں تو صرف اور صرف انسانیت کا دکھ دیکھ کر کہ یہ عام لوگ ہیں میرے جیسے اپ جیسے ان کے پیچھے ان کو موٹیویٹ کون کرتا ہے ہم اس بحث میں نہیں پڑھتے جو عام لوگ ہیں وہ صرف اسی لیے نکلتے ہیں جب وہ نیوز دیکھتے ہیں جب ویڈیوز دیکھتے ہیں پکچر دیکھتے ہیں ان کے اندر بھی وہی تکلیف کا ایلیمنٹ ہوتا ہے جو ہر ایک انسان کا دوسرے انسان کو تکلیف میں دیکھ کر ہونا چاہیے۔ 

لیکن ہمارے کچھ مذہب پرست لوگ جو اپنے ایمان سے فیصلے نہیں کرتے بلکہ مذہب کی عینک سے دیکھتے ہیں اور ان کے مذہب کی انکھ ایسی ہوتی ہے کہ ان کو یا تو صرف اپنے جیسا ہی دکھے گا یا دکھے گا ہی نہیں، یا دوسرے لفظوں میں یہ بولو کہ وہ صرف وہ دیکھتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے جس کی وہ خواہش رکھتا ہے اور باقی سب کو اگنور کر دیتا ہے۔
 یہ سب سے بڑی پرابلم ہے جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور ایسا نہیں تھا اپ کو پتہ ہے ہم جس نبی کی پیروی کرتے ہیں نبی پاک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی پوری زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے پوری زندگی کے اندر مکہ میں دیکھ لیں مدینہ میں دیکھ لیں ان کی پوری زندگی کے اندر اپ کو ایک چیز کامن نظر ائے گی اور وہ ہے محبت وہ ہے احساس برداشت سچائی خلوص ایمانداری اور ہمیشہ جب بھی کسی سے گفتگو کرتے ہیں چاہے مد مقابل کوئی ہے چاہے وہ کسی مذہب سے ہے کسی فرقے قبیلے سے ہے پیار سے اخلاق سے پوری توجہ سے بات سنتے تھے۔

اج یہ جو سو کالڈ علماء حضرات جو کلیم کرتے ہیں کہ ہم اس نبی کے امتی اور وارث ہیں اور اسی میسج کو اگے لے کے چل رہے ہیں تو خدارا خود ایمانداری سے سوچ لیجیے کیا یہ لوگ سچ میں وہ پکچر پیش کر رہے ہیں جو ریل میں دکھائی دینی چاہیے تھی یہ میرا سوال ہے؟

کیا یہ علماء حضرات 100 پرسنٹ ویسا کر رہے ہیں جیسا کرنے کا ان کو حکم ہے اور پھر جو میرے جیسے مقتدی جو اپنے اپ کو سچا ہونے کا دعوی کرتے ہیں کیا ہم خود شعوری طور پر وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہمیں کرنا چاہیے؟

جہاں میں ان سب علماء اور دوسرے بڑے عہدے داران کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں سیم اسی پیرائے میں اپنے اپ کو بھی ٹھہراتا ہوں کیوں کہ یہ وہ سب لوگ ہیں جو ہم میں سے ہی اٹھ کر اور ہم لوگوں کو کسی نہ کسی طرح سے یوز کر کے اوپر جا کے بیٹھ کر اور ہم لوگوں کے اوپر ہی حکومت کر رہے ہیں
 خدارا جب تک ہم لوگ خود اخلاقی طور پر تعلیمی طور پر اخلاقی طور پر ان صلاحیت کے مالک نہ ہو پائے کہ ہم بھی جا کر ایک ریل پکچر کو پکچرائز کر پائیں تو یہ میری بات نوٹ رکھیں یہ اسی طرح کے لوگ ہمارے اوپر وقتن فوقتن اتے رہیں گے اور اپنی پوزیشن پہ قائم رہیں گے اس کی سب سے بڑی وجہ جہاں یہ لوگ ذمہ دار ہیں اس سے بڑے ذمہ دار ہم لوگ خود ہیں ہمارے کردار ہمارے اخلاق وہ ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ لوگ قائم ہیں۔

جس دن میں اور اپ اس چیز کو ریلائز کر پائے کہ ہمیں خود ٹھیک ہونا ہے جب ہم خود ٹھیک ہو جائیں گے معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا ایک ماحول ٹھیک بن جائے گا ٹھیک ماحول سے ٹھیک لوگ ہی اوپر ائیں گے اور ٹھیک لوگوں کی گیدرنگ ہوگی تو یہ سب مسائل خود بخود سورٹ اؤٹ ہو جائیں گے جب ہم اپنی اپنی جگہ جھوٹ بولیں گے بے ایمانی کریں گے دھوکہ دہی کریں گے لڑائی جھگڑا کریں گے تو یہ میری بات نوٹ رکھیں تو ایسے ہی لوگ ہم لوگوں کے اوپر حکومت کرتے رہیں گے۔

ایک دوسری رائے پائی جاتی ہے 
جس کو شاید اگر میں غلط نہیں ہوں ٹرگل ڈاؤن ایفیکٹ کہتے ہیں۔
جیسے اوپر سے چینج ائے گا تو وہ سیدھا نیچے تک امپلیمنٹ ہو جائے گا۔
 لیکن میں اس کو کسی حد تک ٹھیک مانتا ہوں اور کسی حد تھوڑا اختلاف کرتا ہوں جیسا کہ 
اوپر ٹھیک انا یا اوپر ٹھیک بندے کو لے کر انا یہ لوگوں نے کرنا ہے اور لوگوں کے اندر ہی اگر قابلیت نہ ہوگی ایک ٹھیک بندے کو ججمنٹ کرنا چلو اگر عوام کر بھی لیتی ہے لیکن یہ ملک خاص طور پر پاکستان کا سسٹم ایسا ہے کہ اپ کسی کو لے کے انے کی کوشش بھی کرتے ہو لیکن جو اندر سسٹم ہے وہ اس کو اگے انے ہی نہیں دیتا بلکہ اپ لوگوں کی رائے کا ہی قتل کر دیا جاتا ہے
 اپ لوگوں کے رائے کی کوئی رسپیکٹ نہیں ہے جیسا کہ اپ کو پاکستان کے اب تک جتنے بھی انتخابات میں نظر ایا ہے وہ کون کرواتا ہے کیسے چینج ہوتا ہے  اپ سب کو پتہ ہے
 وہ ایک الگ بحث ہے مطلب کہ جب تک اپ کا ووٹ اپ کی چوائس وہ سسٹم اس کے رکاوٹ ڈالنے والوں کو اس شفافیت کے سیٹ اپ کو نہ چلنے والے عناصر یہ بھی تو وہی لوگ ہیں نا اور یہ لوگ کسی دوسری ملک سے نہیں ائے ہوئے یہیں کے لوگ ہیں
 یہ اپ کے معاشرے سے ہی اوپر اٹھے ہوئے لوگ ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ ان کی کھٹی میٹھی باتوں میں ا کر اپ لوگ ان کو ووٹ دیتے ہو ان کو موقع دیتے ہو کہ ان کی اپ خاطر مدارت کرتے ہو صرف اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے 
اور یہ اپنے مفاد کے لیے ان عناصر کے ساتھ مل جاتے ہیں۔
 جن کا مفاد اپس میں میچ کرتا ہے اور پھر یہ مفاد پرستوں کا ایک ایسا جوائنٹ وینچر ہو جاتا ہے جس جوائنٹ وینچر کے اندر پھر لوگوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی بلکہ مفاد پرست لوگ صرف اپنا اپنا سنتے ہیں اور اپنے مفاد کے لیے وہ ایسا گڈھ جوڑ بنا لیتے ہیں جس کے اوپر پھر کوئی بھی چیز اثر نہیں کرتی اور یہ ساری وجوہات ہم لوگوں سے جنم لیتی ہیں
 کیونکہ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے ہم لوگ اس کو انٹلیکچول طریقے سے سوچ نہیں پاتے اس کے اوپر ہم غور و فکر نہیں کرتے پھر اگر کچھ سروے ہو بھی جائے تو پھر جہاں لوگوں کو سٹینڈ لینا چاہیے تھا ہم اس پر اس طریقے سے سٹینڈ نہیں لیتے جس کی وجہ سے یہ لوگ اپنی پوزیشن کو اور تگڑا کیے جاتے ہیں۔
 
کرپشن یقینا پاکستان کا بلکہ پوری دنیا کا بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن مجھے دنیا کا کوئی ایسا ایک ملک بتاتے جہاں کرپشن نہ ہو کرپشن ہوتی ہے لیکن جن کنٹری میں کرپشن ہوتی ہے وہاں ساتھ ساتھ ان کا انصاف کا سسٹم بھی کام کرتا ہے تو جو جو پکڑے جاتے ہیں ان کو اتنی سزا ملتی ہے  اور جو کیس پبلک ہو جاتا ہے پبلک اس کے اوپر سٹینڈ لیتی ہے اور اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے اب پاکستان میں کیا ہوتا ہے؟
 
یہاں پہلے نمبر پہ تو کوئی پکڑتے ہی نہیں اور اگر کوئی پکڑے بھی تو اس کو ڈیل کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے اور ڈیل کی شرائط وہ عام ہیں کہ کچھ تم لو کچھ مجھے دو،
 وہ بندر بانٹ والا کام ہوتا ہے۔
وہ بھی خوش ہم بھی خوش اور ہر چیز کنٹرول کے اندر ہے میڈیا سے لے کے اپ کی عدالتوں سے لے کے ہر چیز تو پھر جو حقیقت ہوتی ہے وہ اندر ہی دم گھٹ کر مر جاتی ہے یا باہر اتی ہے اس کو اس طرح سے اوپن نہیں ہونے دیتے
 جبکہ اس ٹائم کے اندر ہمارا سوشل میڈیا ہمارے ہاتھ میں ہے 
 ایک موبائل پورا  ٹیلی ویژن موجود ہے اس کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنی اواز کو بلند کر سکتے ہیں ہم اپنی اواز کو لوگوں تک پہنچا سکتب ہیں کہ ہم لوگوں کو اب یہ ریالائز ہونا چاہیے ہمیں ابھی اپنی اواز کو اٹھانا چاہیے اور اگر اج ایک ایک بندہ اپنی اواز کو اٹھائے گا تب سے ایک اواز بنے گی اور اس اواز کے اندر ایک سچائی ہونی چاہیے ایک جرات ہونی چاہیے تاکہ اس سے نظام کو خوف ائے تاکہ نظام پھر اپنی اختتام کی جانب بڑھے لیکن یہ جتنے اسان الفاظ میں میں نے بولا ہے اتنا اسان ہے نہیں،
 اس کے لیے لڑنا پڑتا ہے بولنا پڑتا ہے اس کے لیے اپ کو ہر اس چیز کے لیے اپنے اپ کو تیار رکھنا ہے کیوں کہ یہ ایسی چھوٹی گیم نہیں ہے یہ ایک اتنا بڑا چیلنج ہے جیسے کہ اپ کو ہسٹری میں امام حسن حسین جیسے ہستیوں نے کر کے دکھایا اپنے اور اپنے خاندان کو پیش کرتے ہوئے، سیم اسی طرح اس جذبے کے ساتھ اگر اپ اپنے اپ کو اپنی فیملی کو اپنے ہر چیز کو صرف اس لیے پیش کریں کہ ہم نے صرف سچ حق کا ساتھ دینا ہے ہم نے وہ ایسا کوئی کام کوئی فیکٹر کا حصہ نہیں بننا جس کے اندر جھوٹ ہو جس کے اندر فریب ہو دھوکہ ہو اپنے لیے بھی اپنے لوگوں کے لیے بھی کیونکہ ہم انسان ہیں اور اللہ نے ایک انسان کو صرف اس لیے اس دنیا میں بھیجا ہے تاکہ وہ دوسرے انسانوں کا سوچ سکے اس کی خدمت کر سکے جس سے یہ دنیا سکون اور امن کا گہوارہ بن سکے،  مجھے پتہ ہے کہ یہ ناممکن چیزیں ہیں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا اس لیے نہیں ہوا کہ ہمارے ساتھ ایک ہمارا دشمن شیطان بھی ہے وہ وہ شیطان کے ساتھ ہم تب ہی لڑ سکتے ہیں جب ہم اپنے اندر کے شیطان پہ کنٹرول پا لیں جب تک ہمارے اندر کا شیطان جاگتا رہے گا ہم اسی کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے ہم اس بڑے ابلیس کے ساتھ کسی صورت بھی لڑ نہیں سکتے کیونکہ جو انسان اپنی عادتوں کے ساتھ جو انسان اپنے اپ کے ساتھ نہیں لڑ پاتا وہ کب کیسے ایک اس سے بڑی طاقت کے ساتھ کیسےلڑ پائے گا؟

اسی کڑی کا ایک حصہ عمران خان کی زندگی ہے 
وہ عمران خان جس نے اپنی پوری لگزری لائف باہر کے ملکوں میں گزاری عمران خان جس کو کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی 99 پرسنٹ لوگ ترستے ہیں اسی لائف کو جو لائف اللہ نے اس کو دی اور اس نے وہ عروج دیکھا وہ گلائمر کی زندگی دیکھی وہ عیاشی بھی دیکھی وہ لڑکپن بھی دیکھا وہ ٹاپ لیول کی سٹیج کے اندر شادی کی اس خاتون سے جس کا لیول ان کنٹری کے اندر بھی ایک ہائی لیول ہے،  ان کے حصے کی جائیداد انگنت دولت جس کا ایک بہت بڑا حصہ عمران خان کو مل سکتا تھا لیکن اس بندے نے یہ ساری چیزیں قربان کی صرف ایک مقصد کے لیے،
جو مجھے سمجھ میں ایا وہ صرف اپنے لوگ اپنا ملک،  وہ بھی دنیا کی امیر ترین ملکوں کو دیکھ کر وہ چیزیں اپنے لوگوں کے اندر ڈیویلپ کرنا چاہتا تھا وہ چیز دیکھنا چاہتا تھا۔

 میرا ملک اچھا ملک ہے ہم لوگ اچھے لوگ ہیں،
 بیسکلی ہم لوگ اچھے ہیں پرابلم کیا ہے کہ اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنے منہ پپے ہاتھ رکھ کے بیٹھے ہوئے ہیں جو بولتے نہیں ہیں جنہوں نے وہ شرافت کا لبادہ اوڑ لیا ہے جو بات نہیں کرتے جو اپنی عزت چھپا کے بیٹھے ہیں لیکن ان لوگوں کو میں یہ بول دیتا ہوں تم لوگوں کو بھی عمران خان کی طرح اگے انا پڑے گا اج نہیں تو کل تم نہیں اؤ گے تمہارے بچوں کو انا پڑے گا کیونکہ گھر بیٹھنے سے معاملے حل نہیں ہوتے اس کے لیے نکلنا پڑتا ہے بولنا پڑتا ہے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
 عمران خان کو دیکھ لیں 70 سال کی عمر کے اندر جیل کے اندر بیٹھا ہوا ہے جیل کو قبول کر رکھا ہے لیکن ڈیل نہیں کی، اس سے پہلے کتنی سیاستدان گزرے سب ڈیل کر کے نکل گئے صرف اپنے لالچ کی خاطر اپنے اپ کو سیف رکھنے کی خاطر جو لوٹا ہوا تھا اس کو انجوائے کرنے کی خاطر لیکن اپنی قوم کو اپنے لوگوں کو چھوڑ دیا یہ بندہ ڈٹا ہوا ہے اس کے اوپر امید ہے لیکن اس کی اپنی پارٹی جس کے اوپر اس نے اعتبار کیا۔
 وہ لوگ کو لے کے ائے ساتھ چلنے کی کوشش کی اپنے ساتھ چلانے کی کوشش کی لیکن وہ لوگ خود اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی وجہ سے اس کو چھوڑ کر چلے گئے
 لیکن اللہ کا نظام دیکھیں کہ جس نے بھی عمران خان کو دھوکہ دیا اللہ نے اس کو یہی اسی پاکستان کے اندر پاکستان کی زمین کے اوپر رسوا کر دیا ذلیل کر دیا منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا ان کے جھوٹ بے نقاب ہوتے چلے گئے تو یہ معجزہ نہیں تھا اور کیا ہے؟
  میں اپ کو بتا دوں یہ کوئی شخصیت پرستی نہیں ہے یہ وہ ریلٹی بلکہ وہ گراؤنڈ ریلٹی ہے جو اپ خود اپنی انکھوں سے دیکھ سکتے ہو تعصب کی عینک اتارنا شرط ہے
 
انسان جس جگہ کے اوپر جس کشتی کے اندر سوار ہوتا ہے اسی کے بھلے کی کوشش کرتا ہے اس کی حفاظت کرتا ہے اس کی صاف ستھرائی رکھتا ہے اس کا خیال رکھتا ہے تو پاکستان بھی تو ایک ایسی چیز ہے نا یہاں کے لوگوں کو اسی کا خیال رکھنا ہے،  لوگوں کو اس کی حفاظت کرنے ہیں اور ان لوگوں کا ہی یہ فرض ہے کہ وہ اپنے لوگوں کا بھی خیال کریں اپنے ملک کا بھی خیال کریں۔
 ملک ہے تو اس ملک کے سارے ادارے ہیں،
 کسی ادارے کے اندر جتنے بھی کرپٹ عناصر موجود ہیں ان کو صرف نکالنا ہے یہ ادارے اج بھی کیپیبل ہیں کام کرنے کے قابل ہیں اج بھی لوگ ایسے موجود ہیں جو کام کرنے کے لائق ہیں جو کام کرتے ہیں لیکن ان کے کام کو اگے نہیں انے دیا جاتا کیوں کہ وہی کرپٹ ٹولے کا اوپر اثر رسوخ اور دباؤ ہے جس کی وجہ سے وہ ان کو اوپر نہیں انے دیتا دبا کے رکھا ہوا ہے،
 میری درخواست ان لوگوں سے بھی ہے کہ وہ بھی اگے ائیں اپنے اپ کو اگے بڑھائیں اور اپنا حصہ ڈالیں۔

اور یہ اپ اپنے لیے اپنے بچوں کے لیے کرو گے کسی اور کے لیے نہیں ہیں جو بندہ اگر یہ سوچے کہ میں کروں گا مجھے کیا فائدہ؟ حقیقت میں یہ اپیکا فائدہ ہے یہ اپ کے بچوں کا فائدہ ہے، کیا اپ نہیں چاہتے کہ اپ کا پاکستان بھی ایسا پاکستان بنے جہاں لوگ ائیں جیسے پہلے کسی ٹائم پہ ایا کرتے تھے
 جہاں ملیشیاء کے شہزادے  سعودیہ سے شہزادے ا کر یہاں پڑھا کرتے تھے۔
 پاکستان کی پی ائی اے دنیا کی وہ پی ائی اے تھی جس نے دبئی ایئر لائن کو سپورٹ کیا جہاں تک میری انفارمیشن تھائی ایئر لائن کو سپورٹ کیا اور پاکستان کی سٹیل مل تھی اور بہت سارے بڑے ادارے تھے جن کا نام و نشان بھی ختم کر دیا ان لوگوں نے کس لیے صرف اپنے مفادات کے لیے

 اج بھی یہ دربدر ملکوں کے اندر جا کر بھیک مانگتے پھرتے ہیں کہیں جا کر اپنی لیبر کو جو لوگ اپنا رزق کمانے کے لیے سعودیہ کے اندر  یو اے ای کے اندر محنت کرنے کے لیے گئے ہوئے ہیں اپنے بچوں کا رزق کمانے کے لیے اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے کے لیے،
 ان کو گروی رکھ کے پیسے مانگ رہے ہیں کیا یہ شرم کی بات نہیں اس سے بڑی اور شرم کی بات کیا ہوگی ان لوگوں کو کوئی احساس نہیں ان کو کوئی فکر نہیں یہ جو باتیں کرتے ہیں جو پکچریں بناتے ہیں یہ سب فیک ہیں صرف اپنی حکومت کو اپنی کرسی کو استحکام دینے کے لیے
 اگر یہ حقیقی پاکستانی ہیں اور حقیقت میں پاکستان کا سوچتے ہیں تو ان کو چاہیے یہ لانگ ٹرم سٹریٹجی بنائیں شارٹ ٹرم سٹرلجیم صرف مفاد پرست کے لیے ہوتی ہے 
 مفاد پرست ٹولہ ہی بناتا ہے اس کی وجہ کہ ان کو پتہ نہیں ہوتا یہ گارنٹی نہیں ہوتی کہ ان کو کب یہاں سے بھاگنا پڑے اس لیے وہ یہ چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہیں ورنہ جس کو پتہ ہے ہم نے کام کرنا ہے اور لانگ ٹائم چلنا ہے
 مصیبتیں مشکل وقت پوری دنیا کے انسانوں پہ اتا ہے اور لیکن وہ انسان جب اپس میں گٹھ جوڑ کر کے ہمت کر کے سر جوڑ کے بیٹھ جاتے ہیں تو وہ ہر مسئلے کا حل ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب اپس میں ٹرسٹ اپس کے اندر اعتبار اپس کے اندر یہ یقین ہو کہ یہ مجھے دھوکہ نہیں دیں گے جب ہم اپنے ماحول کے اندر بھی ایک دوسرے کے ساتھ کوئی کیا ہوا وعدہ اس کی کوئی قدر نہیں کرتے تو سیم اسی طرح یہ اوپر کے لیول کے لوگ بھی ایک دوسرے پر بالکل ٹرسٹ نہیں کرتے یہ صرف اتنی ہی بات کرتے ہیں اتنا ہی کام کرتے ہیں جہاں ان کو ان کا مفاد نظر ارہا ہوتا ہے 
 جہاں تک ان کے مفاد اپس میں مشترک ہیں ایک ہیں جہاں ان کو تھوڑا سا ان سکیورٹی ہوتی ہیں تو یہ وہاں سے نکل جاتے ہیں۔

 ابھی حال ہی میں اپ دیکھیں سندھ کے گورنر جنرل ابھی وہ اپنی کرسی سے فار غ ہوتے ہی چند دنوں کے اندر ہی اپنی پوری پیکنگ کی اور ملک سے باہر چلا گیا باہر انجوائے کرنے کے لیے گیا ہے پاکستان کو چھوڑ کر گیا ہے جیسا بھی ہے لیکن پاکستان کی تاریخ میں یہ پوری امیج موجود ہے کہ جتنے بھی اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے اینڈ اخر کار وہ پاکستان کو چھوڑ کر چلے گئے
 مجھے بتائیے پاکستان کو چھوڑ کر جانے کی کیا وجہ ہے کیا ایسی چیز ہے پاکستان کے اندر جو ان لوگوں کو مہیا نہیں ہے؟

 صرف ایک چیز ان لوگوں نے پاکستان کو رہنے کے قابل چھوڑا ہی نہیں یہ خود اپنے منہ سے بولتے ہیں کہ پاکستان رہنے کی جگہ نہیں ہے یہاں اؤ حکومت کرو انجوائے کرو لوگوں کو تکلیف دو لوگوں سے لوٹو اپنی جائیداد پراپرٹیز  باہر بناؤ اور خود باہر چلے جاؤ
 یہ اپنی موجودگی میں ہی اپنے بچے اپنے گھر باہر بنا لیتے ہیں ان کے بچے باہر پڑھتے ہیں
 مجھے بتائیے اگر یہ لوگ ان کے اوپر یہ پابندی ہو یہ باہر نہ جائیں تو کیا اپ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ ملک ٹھیک ہو جائے گا وجہ جب ان کے بچے یہاں پڑھیں گے ان کو مجبورا سکول ٹھیک کرنا پڑے گا مجبورا ان کو  کوالیفکیشن کے حساب سے پورا سٹینڈر سیٹ کرنا پڑے گا اگر ان کا علاج پاکستان میں ہوں تو پاکستان کے ہاسپٹل ان کو ٹھیک کرنا پڑیں گے
 لیکن پرابلم کیا ہے جب انہوں نے یہاں رہنا نہیں یہ کیوں ٹھیک کریں ان کو کیا ضرورت ہے ٹھیک کرنا، بلکہ الٹا ہوتا ہے اپ کہیں کنسٹرکشن دیکھیں ناقص مٹیریل لگاتے ہیں کیوں انہوں نے میکسیمم پیسے سائیڈ پہ کرنے ہوتے ہیں تاکہ وہ پیسہ اٹھا کے باہر جا سکیں

 یہ اس پاکستان کی درد بھری کہانی ہے میں ابھی بہت لمبا اور بہت کچھ لکھ سکتا ہوں اس کے اوپر کہ میں اسی دکھ بھرے انداز سے بول رہا ہوں تاکہ میں اپ کو یہ ریل پکچر دکھا سکوں
 پتہ نہیں میں اس میں کہاں تک کامیاب ہوا اپ خود اپنے ارد گرد دیکھنا شروع کرو گے اپ کو نظر انا شروع ہو جائے گا
 اللہ کرے اپ لوگوں کو وہ نظر مل جائے جس سے اپ پاکستان کے مسائل کو دیکھنا شروع کر دو۔
 اپنے اپ کے اوپر غور کرو اپنی صلاحیت کو اوپر اٹھاؤ 
اپنے اپ کو کیپیبل کرو تاکہ اپ کو کہیں مانگنے کی ضرورت نہ پڑے جب اپ مضبوط ہو گئے اپ تگڑے ہو گئے اپ کا خاندان تگڑا ہوگا اپ کا ارد گرد تگڑا ہوگا

 تب اپ کا ملک تگڑا ہو جائے گا اور جب اپ اپنی بات کے اندر اپنی معاشیت کے اندر اپنی قابلیت کے اندر تگڑے نہیں ہوں گے تو پھر اسی طرح دوسروں کے رحم و کرم پے پھرتے رہو گے۔

امید ہے میری باتیں اپ کو کہیں نہ کہیں اثر کریں گی اللہ اپ کا حامی و ناصر ہو۔

امین ثم امین

 پاکستان زندہ باد
 انسانیت پائندہ باد 

میاں عرفان احمد صدیقی





 

16 March 2026

2022-11-05آج کی بات۔ ۔

‏2022-11-05
آج کی بات

السلام علیکم

آج پھر دل کو دکھ ہوا یہ دیکھ کر۔
کوئی رو رہا تھا اور کچھ لوگ اُس پر ہنس رہے تھے۔
ویسے اس معاشرے میں اتنا دکھ کیوں ہے…؟
کرب یہ ہے کہ ظلم کرنے والا بھی انسان ہے اور خود کو مسلمان بھی کہلاتا ہے۔
ظلم بھی کر رہا ہے اور پھر بھی یہ کہہ رہا ہے کہ ہم حق پر ہیں۔
پھر بھی لوگ دیکھ رہے ہوں گے…
کسی نے آنکھیں بند کر لی ہوں گی،
کسی نے دروازے بند کر لیے ہوں گے۔
کیا اسی کا نام دنیا ہے…؟
اللہ کسی کو ایسا احساس نہ دے،
کیونکہ اس احساس کے درد کو سہنا بھی ایک الگ درد ہے۔
لیکن ہر کسی کے لیے محسوس کرنا ممکن نہیں…
بلکہ شاید ناممکن ہے۔
میں تو صرف دعا ہی کر سکتا ہوں
اپنے پاکستان کی حالت پر۔
اے اللہ!
تو سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

سبحان اللہ 
الحمدللہ 
لا الہ الا اللہ اللہ اکبر 

میاں عرفان احمد صدیقی

24 February 2026

06 February 2026

بسنت انجینئر مرزا محمد علی کی نظر میں

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
انجینیئر محترم بڑے ادب سے اپ سے گزارش ہے۔
جب اپ کو اس چیز کا پتہ ہے کہ اسے گلے کٹتے ہیں جب اپ کو اس چیز کا پتہ ہے کہ اس کا نقصان ہوتا ہے جب اپ کو اس چیز کا پتہ ہے کہ یہ اپ کا بچپن نہیں ہے یہ وہ والی ڈور نہیں ہے جو اپ یوز کرتے تھے۔
اپ کی انگلی کی سکن بہت زیادہ سخت ہے بانسبت اپ کے گلے کی  سکن سے۔۔۔

ویسے تو اپ انجینیئر ہو ماشاءاللہ لیکن اپ کو انگلی کے ماس کی طاقت اور گلے کے ماس کی طاقت کا اندازہ تو بخوبی ہونا چاہیے تھا۔

ان سب چیزوں کے پتہ ہونے کے باوجود اپ اس کو ایک بٹر ورڈز یوز کر کے یعنی کہ مکھن ملائی لگا کے اپ یہ بولو کہ یہ بہت اچھی ایکٹیوٹی ہے کہ کون سی ایکٹیوٹی ہے جس کی وجہ سے اپ کا کوئی کاروبار رکا ہوا ہے یہ کون سی ایکٹیوٹی ہے جس کی وجہ سے اپ کو کوئی خوشی نہیں چڑھ رہی یہ کون سی ایکٹیوٹی ہے جس کی وجہ سے اپ کے ملک کی ترقی رکی ہوئی ہے یہ کون سی ایسی ایکٹیوٹی ہے جس کی وجہ وہ رکی ہوئی ہے۔۔۔
کس قسم کے علماء ہوں اپ لوگ اپ لوگوں کو یہ نہیں سمجھ اتی کہ ملک کے اندر اور عوام کے اندر کتنی پریشانی اور اس ٹائم ماحول کیسا ہے اور اس کے اندر اپ ایک گورنمنٹ کی فیور کے اندر بیان دے دیتے ہو جبکہ اپ کو یہ نہیں پتہ چلتا کہ عوام کی تکلیف کیا ہے اور گورنمنٹ کے مفادات کیا ہیں افسوس ہے اپ لوگوں کے اوپر۔
ایسے موقع پر صرف یہی بولا جا سکتا ہے 
 کہ انا للہ وانا الیہ راجعون 

میاں عرفان احمد صدیقی

05 February 2026

پاکستان کا فیوچر

 پاکستان کا فیوچر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سچ پوچھو تو پاکستان کا فیوچر مشکل بھی ہے اور اُمید والا بھی —

حقیقت یہ ہے:

🔴 چیلنجز (جو سب کو نظر آتے ہیں) سیاسی عدم استحکام، بار بار کی لڑائیاں کمزور معیشت، مہنگائی، قرضے اداروں پر عوام کا اعتماد کم ٹیلنٹ ملک سے باہر جا رہا ہے (brain drain) یہ سب چیزیں اگر یونہی چلتی رہیں تو فیوچر سلو اور پریشر والا رہے گا۔
🟢 اُمید کی وجوہات (جو اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں) یوتھ پاور: پاکستان کی اکثریت نوجوان ہے، یہ سب سے بڑا اثاثہ ہے اوورسیز پاکستانی: بزنس، ریمیٹینس، نالج — سب باہر سے آ رہا ہے جغرافیائی اہمیت: چین، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ — پاکستان بیچ میں ہے ڈیجیٹل اور فری لانسنگ: لوگ ریاست پر نہیں، اپنی سکلز پر کھڑے ہو رہے ہیں
اصل گیم چینجر کیا ہو سکتا ہے؟ اگر قانون کی بالادستی واقعی آئے اگر ایک دو لیڈرز ویژن اور سچائی کے ساتھ کھڑے رہیں اگر یوتھ صرف سوشل میڈیا نہیں، سسٹم میں گھس کر لڑے تو 5–10 سال میں پاکستان سروائیو نہیں، ری بِلڈ کر سکتا ہے۔
میری ایماندار رائے ریاست کمزور ہے، قوم زندہ ہے پاکستان ختم نہیں ہو گا، لیکن یا تو آہستہ آہستہ مضبوط ہو گا یا مزید تکلیف کے بعد سیدھا ہو گا یہ قوم آزمائشوں کے بعد اٹھتی ہے۔
ٹھیک ہے، جذبات اور خواہشات ایک طرف رکھ کر صرف دنیا کی نظر سے، خالص حقیقت میں دیکھتے ہیں۔
دنیا پاکستان کو آج کیسے دیکھتی ہے؟ 1️⃣ Unreliable State دنیا کے بڑے پلیئرز (USA, EU, Japan, investors) پاکستان کو ایک غیر متوقع ملک سمجھتے ہیں: پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں حکومتیں پوری مدت نہیں نکالتیں معاہدوں کی continuity نہیں ہوتی
👉 نتیجہ: لانگ ٹرم انویسٹمنٹ نہیں آتی۔ 2️⃣ Economically Fragile عالمی اداروں کی نظر میں: Pakistan = IMF-dependent economy Low tax base High population, low productivity 👉 دنیا پاکستان کو بچایا جانے والا ملک سمجھتی ہے، لیڈ کرنے والا نہیں۔ 3️⃣ Security Risk (اگرچہ پہلے سے بہتر) حقیقت یہ ہے: دہشتگردی اب بھی ایک “risk factor” ہے سرحدی صورتحال (افغانستان، بھارت) investor کو cautious رکھتی ہے 👉 دنیا کہتی ہے: “Risk manageable ہے، مگر ideal نہیں”۔ 4️⃣ No Clear National Direction دنیا کسی ملک سے یہ دیکھتی ہے: “یہ ملک اگلے 20 سال میں کیا بننا چاہتا ہے؟” پاکستان کے بارے میں perception: کبھی چین بلاک کبھی ویسٹ بلاک کبھی اسلامک بلاک 👉 دنیا کو clear identity نظر نہیں آتی۔ پھر بھی پاکستان کو بالکل کیسے نہیں دیکھا جاتا؟
یہ بھی حقیقت ہے: Failed State → نہیں Isolated State → نہیں Irrelevant Country → نہیں
دنیا جانتی ہے: 240+ ملین آبادی ایٹمی طاقت اسٹریٹیجک لوکیشن مضبوط فوجی ادارہ 👉 اس لیے پاکستان کو ignore نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی cold reality prediction (5–10 سال) اگر سسٹم یونہی رہا: پاکستان low-growth, high-dependence ملک رہے گا IMF cycles چلتے رہیں گے Export-based economy نہیں بن پائے گی اگر (صرف اگر) governance ٹھیک ہوئی: پاکستان Vietnam/Indonesia model کی طرف جا سکتا ہے Cheap labor + market size = potential Pakistan is a country with potential that it consistently fails to convert into performance. یہ لائن تمہیں IMF، World Bank، اور investors کے دل کی بات بتا دیتی ہے۔
اقتصادی منظر نامہ 2026 میں پاکستان کی معیشت میں کچھ بہتری کی توقع ہے، لیکن ترقی کی شرح کم رہے گی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے مطابق، 2026 میں جی ڈی پی کی ترقی 3.0% تک پہنچ سکتی ہے، جو 2025 کی 2.7% سے قدرے بہتر ہے۔
اس کے ساتھ ہی افراط زر کی شرح 6.0% تک رہنے کی پیش گوئی ہے، جو پہلے کی بلند سطح سے کم ہے۔
گیلپ اور آئیپسوس کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 86% پاکستانی 2026 کے بارے میں پر امید ہیں.
تاہم، چیلنجز سنگین ہیں۔ جی ڈی پی کی 3.2% ترقی آبادی کی شرح سے بمشکل زیادہ ہے، جس سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قرضوں کی ادائیگی، کم برآمدات اور صنعتی شعبے کی کمزوری معیشت کو کمزور کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی پروگراموں پر انحصار جاری ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر اصلاحات کے، 2026-2027 میں معیشت نازک رہے گی۔
درمیانی طبقے اور غریب گھرانوں کے لیے یہ سال مزید مشکل ہو سکتا ہے، جہاں مہنگائی اور نوکریوں کی کمی بڑھ رہی ہے۔
سیاسی اور حکمرانی کا منظر سیاسی طور پر، 2026 کا آغاز تضادات سے بھرا ہے۔ کچھ شعبوں میں ترقی نظر آ رہی ہے، لیکن سیاسی پولرائزیشن اور آئینی تنازعات عوامی اعتماد کو کم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر حکمرانی، معاشی پالیسی اور سفارتی اصلاحات کے، ملک نازک رہے گا۔ فوجی اثر و رسوخ اور دہشت گردی کے پراکسیز کو ختم کیے بغیر حقیقی ترقی مشکل ہے۔
سماجی اور سیکورٹی چیلنجز سماجی سطح پر، آبادی میں اضافہ (255 ملین سے 370-400 ملین تک اگلے 25 سالوں میں) اور موسمیاتی تبدیلیاں بڑے مسائل ہیں۔
غربت کی شرح بڑھ رہی ہے، اور دہشت گردی، سرحدی تنازعات اور قدرتی آفات ملک کو کمزور کر رہے ہیں۔ کچھ رائے یہ بھی ہے کہ بغیر اصلاحات کے، پاکستان کا مستقبل غیر یقینی ہے، اور یہاں تک کہ ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ ہے۔ البتہ، تعلیم، رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر میں اصلاحات کی توقع ہے.
نتیجہ مجموعی طور پر، 2026 پاکستان کے لیے امید اور چیلنجز کا سال ہے۔ اگر اصلاحات پر توجہ دی جائے تو معیشت مستحکم ہو سکتی ہے، ورنہ مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ پالیسیوں، بین الاقوامی تعلقات (جیسے امریکہ، چین اور بھارت کے ساتھ) اور اندرونی استحکام پر منحصر ہے۔
یہ میرا غیر جانبدارانہ تجزیہ ہے، جو دستیاب ڈیٹا پر مبنی ہے۔

شکریہ
میاں عرفان احمد صدیقی



اؤ تجھے پاکستان کے دکھڑے سناؤں۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  ساؤتھ کوریا کے اندر ایران کی اور اسں سے پہلے فلسطین کے حوالے سے اکثر اس طرح کی ریلیاں وقتن فوقتن نکلتی رہتی...