23 April 2026

نیوز کے اندر دیکھا کہ اسرائیل کے ایک فوجی نے سلیب جو کہ عیسائیوں کا نشان .....

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جیسا کہ اپ نے نیوز کے اندر دیکھا کہ اسرائیل کے ایک فوجی نے سلیب جو کہ عیسائیوں کا نشان ہے جس کو وہ یہ مانتے ہیں کہ اس صلیب کے اوپر حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی پہ لٹکایا گیا۔
جب کہ مسلمانوں کے ہاں یہ بلیو ہے کہ عیسی علیہ السلام کو زندہ اسمان کی طرف  اٹھا لیا گیا۔
لیکن بات یہ ہے کہ دونوں مذہب کے اندر عیسی علیہ السلام کی اتنی ہی قدر ہے جتنی ایک پیغمبر کی انسانیت کرتی ہے۔

تو ایک اسرائیلی فوجی نے ایک مجسمے سلیب کے اوپر جو تھا اس کو اتارا الٹا کیا اور اس کی بے حرمتی کی حالانکہ یہ مسلمانوں کے ہاں ایسا کوئی کنسپٹ نہیں ہے لیکن جھوٹا ہے یا سچا ایک سائن ہے جس کو عیسائیت مانتی ہے تو کیا یہ عیسائیت کے مذہب کے بلیو کرنے والے لوگ ان کو یہ گوارا ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی اٹھ کر اس طرح کی حرکت کریں یہ سیم ایسا ہی ہے جیسا کہ مسلمان نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جس طریقے سے ایمان رکھتے ہیں اور ایک کوئی بھی شخص اٹھ کر کوئی ایسا مجسمہ تصویر ان سے منسوب کرے اور پھر اس کی تذلیل کرے تو جیسے ایک مسلمان کو برداشت نہیں تو اسی طرح کسی بھی مذہب کے پیشوا کی یا اس مذہب کے پیغمبر کی یا اس مذہب کے رہنما کی کوئی تصویر یا سائن یا ان سے منسوب کر کے ایک چیز کو ذلیل کیا جائے اس کی تزہیق کی جائے تو یہ اس مذہب کے پیشوا کو گوارا نہیں تو میں اس سلسلے میں اس فوجی کے اس کردار کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور اپنی تمام مسلم کمیونٹی کو یہ بولتا ہوں کہ اپ سب لوگ اس کے اوپر اواز اٹھائیں اور اپنا ری ایکشن دیں کسی بھی مذہب کے بلیور کو یہ کوئی حق نہیں پہنچا کہ وہ دوسرے کے مذہب کے اوپر انگلی اٹھائے یا اس طرح کی اواز کشی یا حرکت کرے جس سے اس کے ماننے والوں کے دل کو دکھ پہنچے۔اور میری درخواست سب کریچن سے بھی ہے کہ اپ لوگ کیونکہ خاموشی یا کہیں اگر اپ مذمت کر رہے ہو آپکی اواز اتنی کم سنائی دے رہی ہے کہ جس سے یہ حیرانگی ہوتی ہے کہ اپ لوگ کیسے خاموش رہ سکتے ہو۔

اور اس کے اوپر اور اس جیسے کسی بھی ایکشن کے اوپر ہر انسان کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنی اواز کو بلند کرے اور یہ بتائے اس دنیا کو کہ ہم انسان ہیں اور انسان کے معاشرے میں انسان انسانیت کی عزت کر کے ہی رہ سکتا ہے اگر کوئی یہ سمجھے کہ کوئی ایک شخص دوسرے شخص کی تضہیق کر کے یا اس کو تکلیف دے کے سکون سے رہے تو یہ ناممکن ہے ایسا نہیں ہوتا تکلیف کے بدلے تکلیف اتی ہے اج ا جائے یا کل، یہاں ائے یا اگلے جہان میں اسکو بھگتنا ضروری ہے اسی لیے قیامت کا انا بھی ضروری ہے اور اسی لیے اسلام کے اندر دور اخرت اخری دن کا کونسپٹ ہے وہ بھی اسی لیے ہے۔

اللہ کرے میری یہ بات اپ سب کو سمجھ ا جائے اور اپ سب سے یہ درخواست ہے کہ اپ ہر اس عناصر کی جو عناصر انسانیت کے  مل بیٹھنے اور امن میں رکاوٹ بنتے ہیں ان کی بھرپور طریقے سے مخالفت کریں۔
شکریہ
میاں عرفان احمد صدیقی۔

No comments:

Post a Comment

نیوز کے اندر دیکھا کہ اسرائیل کے ایک فوجی نے سلیب جو کہ عیسائیوں کا نشان .....

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جیسا کہ اپ نے نیوز کے اندر دیکھا کہ اسرائیل کے ایک فوجی نے سلیب جو کہ عیسائیوں کا نشان ہے جس کو ...